رسولہ بالھدٰی و دین الحق وتھذیب الاخلاق۔ قل ان افتریتہٗ فعلیّ اجرامی۔ ومن اظلم ممن افتریٰ علی اللّٰہ کذبًا۔ تنزیل من اللّٰہ العزیز الرحیم۔ لتنذر قومًا ماانذر اٰباءھم ولتدعو قومًا اٰخرین۔ عسی اللّٰہ ان یجعل بینکم وبین الذین عادیتم مودۃ۔ یخرّون علی الاذقان سجّدا ربنا اغفرلنا اناکنّا خاطئین۔ لا تثریب علیکم الیوم یغفراللّٰہ لکم وھو ارحم الراحمین۔انّیؔ انا اللّٰہ فاعبدنی ولا تنسنی واجتھد ان تصلنی واسئل ربک وکن سؤلا۔ اللّٰہ ولیّ حنّان۔ علّم القران۔ فبِاَیّ حدیث بعدہ تحکمون۔ نزّلنا علٰی ھٰذا العبد رحمۃ۔ وما ینطق عن الھوٰی ان ھوالّا وحی یوحٰی۔ دنٰی فتدلّٰی فکان قاب قوسین او ادنٰی۔ ذرنی والمکذبین۔ انّی مع الرسول اقوم۔ ان یومی لفصل عظیم۔ وانک علی صراط مستقیم۔ وانّا نرینک بعض الذی نعدھم اونتوفّینک۔ وانی رافعک الیّ ویأتیک نصرتی۔ انی انا اللّٰہ ذوالسلطان۔ ترجمہ۔ اور کہتے ہیں کہ یہ بناوٹ ہے اور یہ شخص دین کی بیخ کنی کرتا ہے۔ کہہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا۔ کہہ اگر یہ امر خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو تم اس میں بہت سا اختلاف پاتے یعنی خدا تعالیٰ کی کلام سے اس کے لئے کوئی تائید نہ ملتی۔ اور قرآن جو راہ بیان فرماتا ہے یہ راہ اس کے مخالف ہوتی اور قرآن سے اس کی تصدیق نہ ملتی اور دلائل حقّہ میں سے کوئی دلیل اس پر قائم نہ ہو سکتی اور اس میں ایک نظام اور ترتیب اور علمی سلسلہ اور دلائل کا ذخیرہ جو پایا جاتا ہے یہ ہرگز نہ ہوتا اور آسمان اور زمین میں سے جوکچھ اس کے ساتھ نشان جمع ہو رہے ہیں اِن میں سے کچھ بھی نہ ہوتا اور پھر فرمایا خدا وہ خدا ہے جس نے اپنے رسول کو یعنی اس عاجز کو ہدایت اور دین حق اور تہذیب اخلاق کے ساتھ بھیجا۔ ان کو کہہ دے کہ اگر میں نے افترا کیا ہے تو میرے پر اس کا جرم ہے یعنی میں ہلاک ہو جاؤں گا اور اس شخص سے زیادہ تر ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹ باندھے۔ یہ کلام خدا کی طرف سے ہے جو غالب اور رحیم ہے تا تو ان لوگوں کو ڈرا وے جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے اور تا دوسری قوموں کو دعوتِ دین