اِس میں خدا کی حکمت تھی مگر افسوس اُن پر جن کے ذریعہ سے یہ حکمت اور مصلحت الٰہی پوری ہوئی اگر وہ پیدا نہ ہوتے تو اچھا تھا۔ اِس قدر الہام تو ہم نے بطور نمونہ کے براہین احمدیہ میں سے لکھے ہیں۔ لیکن اس اکیس برس کے عرصہ میں براہین احمدیہ سے لے کر آج تک میں نے چالیس۴۰ کتابیں تالیف کی ہیں اور ساٹھ ہزار کے قریب اپنے دعوے کے ثبوت کے متعلق اشتہارات شائع کئے ہیں اور وہ سب میری طرف سے بطور چھوٹے چھوٹے رسالوں کے ہیں اور ان سب میں میری مسلسل طور پر یہ عادت رہی ہے کہ اپنے جدید الہامات ساتھ ساتھ شائع کرتا رہاہوں۔ اس صورت میں ہر ایک عقلمند سوچ سکتا ہے کہ یہ ایک مدّت دراز کا زمانہ ابتدائے دعویٰ مامور من اللہ ہونے سے آج تک کیسی شباروزی سرگرمی سے گذرا ہے اور خدا نے نہ صرف اس وقت تک مجھے زندگی بخشی بلکہ ان تالیفات کے لئے صحت بخشی مال عطا کیا وقت عنایت فرمایا۔ اور الہامات میں خدا تعالیٰ کی مجھ سے یہ عادت نہیں کہ صرف معمولی مکالمہ الٰہیہ ہو بلکہ اکثر الہامات میرے پیشگوئیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور دشمنوں کے بد ارادوں کا اُن میں جواب ہے۔ مثلاً چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ دشمن میری موت کی تمنا کریں گے تا یہ نتیجہ نکالیں کہ جھوٹا تھا تبھی جلد مر گیا اِس لئے پہلے ہی سے اُس نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا۔ ثمانین حولًااوقریبًامن ذالک اوتزید علیہ سنینًا و ترٰی نسلًا بعیدًا یعنی تیری عمر اسی۸۰ برس کی ہوگی یا دو چار کم یاچند سال زیادہ اور تو اس قدر عمر پائے گا کہ ایک دُور کی نسل کو دیکھ لے گا اور یہ الہام قریباً پینتیس برس سے ہو چکا ہے اور لاکھوں انسانوں میں شائع کیا گیا۔ ایسا ہی چونکہ خداتعالیٰ جانتا تھا کہ دشمن یہ بھی تمنا کریں گے کہ یہ شخص جھوٹوں کی طرح مہجور اور مخذول رہے اور زمین پر اُس کی قبولیتؔ پیدا نہ ہوتا یہ نتیجہ نکال سکیں کہ وہ قبولیت جو صادقین کے لئے شرط ہے اور اُن کے لئے آسمان سے نازل ہوتی ہے اِس شخص کو نہیں دی گئی لہٰذا اس نے پہلے سے براہین احمدیہ میں فرما دیا۔ ینصرک رجال نوحی الیھم من السماء۔ یاتون من