سراسر مکر سے تکفیر کا فتویٰ دے گا۔(یہ ایک پیشگوئی ہے جس میں ایک بد قسمت مولوی کی نسبت خبر دی گئی ہے کہ ایک زمانہ آتا ہے جب کہ وہ مسیح موعود کی نسب تکفیر کا کاغذ طیّار کرے گا) اور پھر فرمایا کہ وہ اپنے بزرگ ہامان کو کہے گا کہ اس تکفیر کی بنیاد تو ڈال کہ تیرا اثر لوگوں پر بہت ہے اور تو اپنے فتویٰ سے سب کو افروختہ کر سکتا ہے۔ سو تو سب سے پہلے اس کفرنامہ پر مہر لگاتا سب علماء بھڑک اٹھیں اور تیری مہر کو دیکھ کر وہ بھی مہریں لگادیں اور تاکہ میں دیکھوں کہ خدا اس شخص کے ساتھ ہے یا نہیں کیونکہ میں اُس کو جھوٹا سمجھتا ہوں (تب اُس نے مہر لگا دی) ابو لہب ہلاک ہو گیا اور اُس کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوؔ گئے (ایک وہ ہاتھ جس کے ساتھ تکفیر نامہ کو پکڑا اور دوسرا وہ ہاتھ جس کے ساتھ مہر لگائی یا تکفیر نامہ لکھا) اس کو نہیں چاہئے تھا کہ اس کام میں دخل دیتا مگر ڈرتے ڈرتے اور جو تجھے رنج پہنچے گا وہ تو خدا کی طرف سے ہے جب وہ ہامان تکفیرنامہ پرمہر لگادے گا تو بڑا فتنہ برپا ہوگا۔ پس تو صبرکر جیسا کہ اولو العزم نبیوں نے صبر کیا (یہ اشارہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت ہے کہ اُن پر بھی یہود کے پلید طبع مولویوں نے کفر کا فتویٰ لکھا تھا اور اس الہام میں یہ اشارہ ہے کہ یہ تکفیر اس لئے ہوگی کہ تا اس امر میں بھی حضرت عیسیٰ سے مشابہت پیدا ہو جائے۔ اور اِس الہام میں خدا تعالیٰ نے استفتاء لکھنے والے کا نام فرعون رکھا اور فتویٰ دینے والے کا نام جس نے اوّل فتویٰ دیا ہامان۔ پس تعجب نہیں کہ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ ہامان اپنے کفر پر مرے گا لیکن فرعون کسی وقت جب خدا کا ارادہ ہو کہے گا آمنت بالّذی آمنت بہ بنواسرائیل) اور پھر فرمایا کہ یہ فتنہ خدا کی طرف سے فتنہ ہوگا تا وہ تجھ سے بہت محبت کرے جو دائمی محبت ہے جو کبھی منقطع نہیں ہوگی اور خدا میں تیرا اجر ہے خدا تجھ سے راضی ہوگا اور تیرے نام کو پورا کرے گا۔ بہت ایسی باتیں ہیں کہ تم چاہتے ہو مگر وہ تمہارے لئے اچھی نہیں۔ اور بہت ایسی باتیں ہیں کہ تم نہیں چاہتے اور وہ تمہارے لئے اچھی ہیں اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تکفیر ضروری تھی اور