3 ۱؂ سے مخالف پڑی ہیں۔ شرارت کی حجت بازی سے صریح بے ایمانی کی بُو آتی ہے۔ ایسا ہی مولوی محمد اسمٰعیل نے صفائی سے خدا تعالیٰ کے روبرو یہ درخواست کی کہ ہم دونوں فریق میں سے جو جھوٹا ہے وہ مر جائے۔ سو خدا نے اُس کو بھی جلد تر اس جہان سے رخصت کر دیا اور ان وفات یافتہ مولویوں کا ایسی دعاؤں کے بعد مرجانا ایک خدا ترس مسلمان کے لئے توکافی ہے مگر ایکؔ پلید دل سیاہ دل دنیا پرست کے لئے ہرگز کافی نہیں۔ بھلا علیگڑہ تو بہت دُور ہے اور شاید پنجاب کے کئی لوگ مولوی اسمٰعیل کے نام سے بھی ناواقف ہوں گے مگر قصور ضلع لاہور تو دُور نہیں اور ہزاروں اہل لاہور مولوی غلام دستگیر قصوری کو جانتے ہوں گے اور اُس کی یہ کتاب بھی انہوں نے پڑھی ہوگی تو کیوں خدا سے نہیں ڈرتے۔ کیا مرنا نہیں؟ کیا غلام دستگیر کی موت میں بھی لیکھرام کی موت کی طرح سازش کا الزام لگائیں گے۔ خدا کے جھوٹوں پر نہ ایک دم کے لئے *** ہے بلکہ قیامت تک *** ہے۔ کیا دُنیا کے کیڑے محض سازش اور منصوبہ سے خدا کے مقدس مامورین کی طرح کوئی قطعی پیشگوئی کر سکتے ہیں۔ ایک چور جو چوری کے لئے جاتا ہے اس کو کیا خبر ہے کہ وہ چوری میں کامیاب ہو یا ماخوذ ہو کر جیل خانہ میں جائے۔ پھر وہ اپنی کامیابی کی زور شور سے تمام دنیا کے سامنے دشمنوں کے سامنے کیا پیشگوئی کرے گا۔ مثلاً دیکھو کہ ایسی پُر زور پیشگوئی جو لیکھرام کے قتل کئے جانے کے بارے میں تھی جس کے ساتھ دن تاریخ وقت بیان کیا گیا تھاکیا کسی شریر بد چلن خونی کا کام ہے۔ غرض اِن مولویوں کی سمجھ پر کچھ ایسے پتھر پڑ گئے ہیں کہ کسی نشان سے فائدہ نہیں اُٹھاتے۔ براہین احمدیہ میں قریب سولہ برس پہلے بیان کیا گیا تھا کہ خدا تعالیٰ میری تائید میں خسوف کسوف کا نشان ظاہرکرے گالیکن جب وہ نشان ظاہر ہو گیا اور حدیث کی کتابوں سے بھی کُھل گیا کہ یہ ایک پیشگوئی تھی کہ مہدی کی شہادت کے لئے اس کے ظہورکے وقت میں رمضان میں خسوف کسوف ہوگا تو اِن مولویوں نے اس نشان کو بھی گاؤ خورد کر دیا اور حدیث سے مُنہ پھیر لیا۔ یہ بھی احادیث