اس کا نتیجہ موجودہ مولویوں کے لئے جو محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبد الجبار غزنوی ثم امرتسری اور عبد الحق غزنوی ثم امرتسری اور مولوی پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور رشید احمد گنگوہی اور نذیر حسین دہلوی اور رسل بابا امرتسری اور منشی الٰہی بخش صاحب اکونٹنٹ اور حافظ محمد یوسف ضلعدار نہر وغیر ہم کے لئے یہ تو نہ ہوا کہ اس اعجاز صریح سے یہ لوگ فائدہ اُٹھاتے اور خدا سے ڈرتے اور توبہ کرتے۔ ہاں ان لوگوں کی ان چند نمونوں کے بعد کمریں ٹوٹ گئیں اور اس قسم کی تحریروں سے ڈر گئے فلن یکتبوا بمثل ھٰذا بما تقدمت الامثال۔ یہ معجزہ کچھ تھوڑا نہیں تھا کہ جن لوگوں نے مدارفیصلہ جھوٹے کی موت رکھی تھی وہ میرے مرنے سے پہلے قبروں میں جا سوئے۔ اور میں نے ڈپٹی آتھم کے مباحثہ میں قریبًا ساٹھ آدمی کے روبرو یہ کہا تھا کہ ہم دونوں میں سے جو جھوٹا ہے وہ پہلے مرے گا۔ سو آتھم بھی اپنی موت سے میری سچائی کی گواہی دے گیا۔ مجھے ان لوگوں کی حالتوں پر رحم آتا ہے کہ بخل کی وجہ سے کہاں تک اِن لوگوں کی نوبت پہنچ گئی ہے۔ اگر کوئی نشان بھی طلب کریں تو کہتے ہیں کہ یہ دعا کرو کہ ہم سات دن میں مر جائیں۔ نہیں جانتے کہ خود تراشیدہ میعادوں کی خدا پیروی نہیں کرتا اُس نے فرمادیا ہے کہ 3 ۱۔ اور اس نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا کہ 3۲۔ سو جبکہ سیدنا محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن کی میعاد اپنی طرف سے پیش نہیں کر سکتے تومیں سات دن کا کیونکر دعویٰ کروں۔ ان نادان ظالموں سے مولوی غلام دستگیر اچھا رہا کہ اُس نے اپنے رسالہ میں کوئی میعاد نہیں لگائی۔ یہی دعا کی کہ یا الٰہی اگر میں مرزا غلام احمد قادیانی کی تکذیب میں حق پر نہیں تو مجھے پہلے موت دے۔ اور اگر مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعویٰ میں حق پر نہیں تو اُسے مجھ سے پہلے موت دے۔ بعد اس کے بہت جلد خدا نے اس کو موت دے دی۔ دیکھو کیسا صفائی سے فیصلہ ہو گیا۔ اگر کسی کو اس فیصلہ کے ماننے میں تردّد ہو تو اس کو اختیار ہے کہ آپ خدا کے فیصلہ کو آزمائے لیکن ایسی شرارتیں چھوڑ دے جو آیت3