مگر یہ دلیل ٹوٹ نہ سکی۔ حافظ صاحب علم سے بے بہرہ ہیں اُن کو خبر نہیں کہ ہزار ہا نامی علماء اور اولیاء ہمیشہ اسی دلیل کو کفار کے سامنے پیش کرتے رہے اور کسی عیسائی یا یہودی کو طاقت نہ ہوئی کہ کسی ایسے شخص کا نشان دے جس نے افترا کے طور پر مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کرکے زندگی کے تیئیس برس پورے کئے ہوں۔ پھر حافظ صاحب کی کیا حقیقت اور سرمایہ ہے کہ اِس دلیل کو توڑ سکیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسی وجہ سے بعض جاہل اور نافہم مولوی میری ہلاکت کے لئے طرح طرح کے حیلے سوچتے رہے ہیں تا یہ مدت پوری نہ ہونی پاوے جیسا کہ یہودیوں نے نعوذ باللہ حضرت مسیح کو رفع سے بے نصیب ٹھہرانے کے لئے صلیب کا حیلہ سوچا تھا تا اس سے دلیل پکڑیں کہ عیسیٰ بن مریم اُن صادقوں میں سے نہیں ہے جن کا رفع الی اللہ ہوتا رہا ہے مگر خدا نے مسیح کو وعدہ دیا کہ میں تجھے صلیب سے بچاؤں گا اور اپنی طرف تیرا رفع کروں گا جیسا کہ ابراہیم اور دوسرے پاک نبیوں کا رفع ہوا۔ سو اس طرح ان لوگوں کے منصوبوں کے برخلاف خدا نے مجھے وعدہ دیا کہ میں اسی۸۰ برس یا دو تین برس کم یا زیادہ تیری عمر کروں گا تا لوگ کمی عمر سے کاذب ہونے کا نتیجہ نہ نکال سکیں جیسا کہ یہودی صلیب سے نتیجہ عدم رفع کا نکالنا چاہتے تھے۔ اور خدا نے مجھے وعدہ دیا کہ میں تمام خبیث مرضوں سے بھی تجھے بچاؤں گا جیسا کہ اندھا ہونا تا اس سے بھی کوئی بد نتیجہ نہ نکالیں۔* اور خدا نے مجھے اطلاع دی کہ بعض ان میں سے تیرے پر بد دُعائیں بھی کرتے رہیں گے مگر ان کی بد دعائیں میں انہی پر ڈالوں گا۔ اور درحقیقت لوگوں نے اس خیال سے کہ کسی طرح لو تقول کے نیچے مجھے لے آئیں منصوبہ بازیؔ میں کچھ کمی نہیں کی۔ بعض مولویوں نے قتل کے فتوے دیئے ۔بعض مولویوں نے جھوٹے قتل کے مقدمات بنانے کے لئے میرے پر گواہیاں دیں۔ بعض مولوی
* الہام الٰہی آنکھ کے بارے میں یہ ہے تنزل الرحمۃ علٰی ثلٰث الْعَیْنُ وعلی الاخریین۔ یعنی تیرے تین عضووں پر خدا کی رحمت نازل ہوگی۔ ایک آنکھیں اور باقی دو اَور۔ منہ