اور جن لوگوں کو اسلام کی کتابوں پر نظر ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ آج تک علماء امت میں سے کسی نے یہ اعتقاد ظاہر نہیں کیا کہ کوئی مفتری علی اللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح تیئیس۲۳ برس تک زندہ رہ سکتا ہے بلکہ یہ تو صریح آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی عزت پر حملہ اور کمال بے ادبی ہے اور خدا تعالیٰ کی پیش کردہ دلیل سے استخفاف ہے۔ ہاں اُن کا یہ حق تھا کہ مجھ سے اس کا ثبوت مانگتے کہ میرے دعویٰ مامورمن اللہ ہونے کی مدت تیئیس برس یا اس سے زیادہ اب تک ہو چکی ہے یا نہیں۔ مگرؔ حافظ صاحب نے مجھ سے یہ ثبوت نہیں مانگا کیونکہ حافظ صاحب بلکہ تمام علماءِ اسلام اور ہندو اور عیسائی اس بات کو جانتے ہیں کہ براہین احمدیہ جس میں یہ دعویٰ ہے اور جس میں بہت سے مکالمات الٰہیہ درج ہیں اس کے شائع ہونے پر اکیس برس گذر چکے ہیں اور اسی سے ظاہر ہوتا ہے کہ قریباً تیس برس سے یہ دعویٰ مکالماتِ الٰہیہ شائع کیا گیا ہے اور نیز الہام اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ جو میرے والد صاحب کی وفات پر ایک انگشتری پر کھودا گیا تھا اور امرتسر میں ایک مہرکن سے کھدوایا گیا تھا وہ انگشتری اب تک موجود ہے اور وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے طیار کروائی اور براہین احمدیہ موجود ہے جس میں یہ الہام الیس اللّٰہ بکاف عبدہ لکھا گیا ہے اور جیسا کہ انگشتری سے ثابت ہوتا ہے یہ بھی چھبیس برس کا زمانہ ہے۔ غرض چونکہ یہ تیس سال تک کی مدت براہین احمدیہ سے ثابت ہوتی ہے اور کسی طرح مجال انکار نہیں۔ اور اسی براہین کا مولوی محمد حسین نے ریویو بھی لکھا تھا لہٰذا حافظ صاحب کی یہ مجال تو نہ ہوئی کہ اس امرکا انکا رکریں جو اکیس سال سے براہین احمدیہ میں شائع ہو چکا ہے ناچار قرآن شریف کی دلیل پر حملہ کر دیا کہ مثل مشہور ہے کہ مرتا کیا نہ کرتا۔ سو ہم اس اشتہار میں حافظ محمد یوسف صاحب سے وہ نظیر طلب کرتے ہیں جس کے پیش کرنے کا انہوں نے اپنی دستخطی تحریر میں وعدہ کیا ہے۔ ہم یقیناًجانتے ہیں کہ قرآنی دلیل کبھی ٹوٹ نہیں سکتی۔ یہ خدا کی پیش کردہ دلیل ہے نہ کسی انسان کی۔ کئی کم بخت بد قسمت دُنیا میں آئے اور انہوں نے قرآن کی اس دلیل کو توڑنا چاہامگر آخر آپ ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔