اور مجھے خو اور بو اور رنگ اور روپ کے لحاظ سے حضرت عیسیٰ مسیح کا اوتار کرکے بھیجا ایسا ہی اُس نے حقوق خالق کے تلف کے لحاظ سے میرا نام محمد اور احمد رکھا اور مجھے توحید پھیلانے کے لئے تمام خو اور بو اور رنگ اور روپ اور جامہ محمدی پہنا کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اوتار بنا دیا۔ سو میں ان معنوں کرکے عیسیٰ مسیح بھی ہوں اور محمد مہدی بھی۔ مسیح ایک لقب ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیا گیا تھا جس کے معنے ہیں خدا کو چھونے والا اور خدائی انعام میں سے کچھ لینے والا۔ اور اس کا خلیفہ اور صدق اوررا ستبازی کو اختیار کرنے والا۔ اور مہدی ایک لقب ہے ؔ جو حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا گیا تھا جس کے معنے ہیں کہ فطرتًا ہدایت یافتہ اور تمام ہدایتوں کا وارث اور اسم ہادی کے پورے عکس کا محل۔ سو خدا تعالیٰ کے فضل اور رحمت نے اس زمانہ میں ان دونوں لقبوں کا مجھے وارث بنا دیا اور یہ دونوں لقب میرے وجود میں اکٹھے کر دیئے سو میں ان معنوں کے رو سے عیسیٰ مسیح بھی ہوں اور محمد مہدی بھی اور یہ وہ طریق ظہور ہے جس کو اسلامی اصطلاح میں بروز کہتے ہیں سو مجھے دو بروز عطا ہوئے ہیں بروز عیسیٰ وبروز محمدؐ۔ غرض میرا وجود ان دونوں نبیوں کے وجود سے بروزی طور پر ایک معجون مرکب ہے۔ عیسیٰ مسیح ہونے کی حیثیت سے میرا کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو وحشیانہ حملوں اور خونریزیوں سے روک دوں جیسا کہ حدیثوں میں صریح طور سے وارد ہو چکا ہے کہ جب مسیح دوبارہ دنیا میں آئے گا تو تمام دینی جنگوں کا خاتمہ کر دے گا۔ سو ایسا ہی ہوتا جاتا ہے۔ آج کی تاریخ تک تیس ہزار کے قریب یا کچھ زیادہ میرے ساتھ جماعت ہے* جو برٹش انڈیا کے متفرق مقامات میں آباد ہے اور ہر ایک شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود مانتا ہے اُسی روز سے اُس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانہ میں جہاد قطعًا حرام ہے کیونکہ مسیح آچکا ۔ خاص کر میری تعلیم
* اگرچہ خاص آدمی جو علم اور فہم سے کافی بہرہ رکھتے ہیں دس ہزار کے قریب ہوں گے مگر ہر ایک قسم کے لوگ جن میں ناخواندہ بھی ہیں تیس ہزار سے کم نہیں ہیں بلکہ شائد زیادہ ہوں۔ منہ