روحانی اور آسمانی باتیں عوام کے ہاتھ میں آتی ہیں تو وہ اُن کی جڑ تک پہنچ نہیں سکتے۔ آخر کچھ بگاڑ کر اور مجاز کو حقیقت پر حمل کرکے سخت غلطی اور گمراہی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ سو اسی غلطی میں آج کل کے علماء مسیحی بھی گرفتار ہیں اور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا بنا دیا جائے۔ سو یہ حق تلفی خالق کی ہے اور اس حق کے قائم کرنے کے لئے اور توحید کی عظمت دلوں میں بٹھانے کے لئے ایک بزرگ نبی ملک عرب میں گذرا ہے جس کا نام محمدؐ اور احمد ؐ تھا خدا کے اُس پر بے شمار سلام ہوں۔ شریعت دو۲ حصوں پر منقسم تھی۔ بڑا حصہ یہ تھا کہ لا الٰہ الا اللّٰہ یعنی توحید۔ اور دوسرا حصہ یہ کہ ہمدردی نوع انسان کرو اور ان کے لئے وہ چاہو جو اپنے لئے۔ سو ان دو حصوں میں سے حضرت مسیح نے ہمدردی نوع انسان پر زور دیا کیونکہ وہ زمانہ اسی زورؔ کو چاہتا تھا۔ اور دوسرا حصہ جو بڑا حصہ ہے یعنی لا الٰہ الا اللّٰہ جو خدا کی عظمت اور توحید کا سرچشمہ ہے اس پر حضرت محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم نے زور دیا کیونکہ وہ زمانہ اسی قسم کے زور کو چاہتا تھا۔ پھر بعد اس کے ہمارا زمانہ آیا جس میں اب ہم ہیں۔ اس زمانہ میں یہ دونوں قسم کی خرابیاں کمال درجہ تک پہنچ گئی تھیں یعنی حقوق عباد کا تلف کرنا اور بے گناہ بندوں کا خون کرنا مسلمانوں کے عقیدہ میں داخل ہو گیا تھا اور اس غلط عقیدہ کی وجہ سے ہزارہا بے گناہوں کو وحشیوں نے تہِ تیغ کر دیا تھا۔ اور پھر دوسری طرف حقوقِ خالق کا تلف کرنا بھی کمال کو پہنچ گیا تھا اور عیسائی عقیدہ میں یہ داخل ہو گیا تھا کہ وہ خدا جس کی انسانوں اور فرشتوں کو پرستش کرنی چاہئے وہ مسیح ہی ہے اور اس قدر غلو ہو گیا کہ اگرچہ اُن کے نزدیک عقیدہ کے رو سے تین اقنوم ہیں لیکن عملی طور پر دُعا اور عبادت میں صرف ایک ہی قرار دیا گیا ہے یعنی مسیح۔ یہ دونوں پہلو اتلافِ حقوق کے یعنی حق العباد اور حق رب العباد اس قدر کمال کو پہنچ گئے تھے کہ اب یہ تمیز کرنا مشکل ہے کہ ان دونوں میں سے کونسا پہلو اپنے غلو میں انتہائی درجہ تک جاپہنچا ہے۔ سو اس وقت خدا نے جیسا کہ حقوق عباد کے تلف کے لحاظ سے میرا نام مسیح رکھا