اپنے صحابہ کو جو امت ہیں قرار دیا۔ اور یہ نہ کہا کہ مسیح بنی اسرائیلی لڑے گا اور نزول کا لفظ محض اجلال اور اکرام کے لئے ہے۔ اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چونکہ اس پُر فساد زمانہ میں ایمان ثُریا پر چلا جائے گا اور تمام پیری مریدی اور شاگردی استادی اور افادہ استفادہ معرضِ زوال میں آجائے گا اِس لئے آسمان کا خدا ایک شخص کو اپنے ہاتھ سے تربیت دے کر بغیر توسط زمینی سلسلوں کے زمین پر بھیجے گا جیسے کہ بارش آسمان سے بغیر توسط انسانی ہاتھوں کے نازل ہوتی ہے۔ اور منجملہ دلائل قویہ قطعیہ کے جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں جو مسیح موعود اسی اُمتِ محمدیہ میں سے ہوؔ گاقرآن شریف کی یہ آیت ہے۔ 333 ۱؂ الخ یعنی خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے جو ایماندار ہیں اور نیک کام کرتے ہیں وعدہ فرمایا ہے جو ان کو زمین پر اُنہی خلیفوں کی مانند جو اُن سے پہلے گذر چکے ہیں خلیفے مقرر فرمائے گا اِس آیت میں پہلے خلیفوں سے مُراد حضرت موسیٰ کی امت میں سے خلیفے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی شریعت کو قائم کرنے کے لئے پے در پے بھیجا تھا اور خاص کر کسی صدی کو ایسے خلیفوں سے جو دینِ موسوی کے مجدد تھے خالی نہیں جانے دیا تھااور قرآن شریف نے ایسے خلیفوں کا شمار کرکے ظاہر فرمایا ہے کہ وہ باراں۱۲ ہیں اور تیرھواں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو موسوی شریعت کا مسیح موعود ہے۔ اور اس مماثلت کے لحاظ سے جو آیت ممدوحہ میں کَمَا کے لفظ سے مستنبط ہوتی ہے ضروری تھا کہ محمدی خلیفوں کو موسوی خلیفوں سے مشابہت و مماثلت ہو۔ سواسی مشابہت کے ثابت اور متحقق کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں بارہ موسوی خلیفوں کا ذکر فرمایا جن میں سے ہر ایک حضرت موسیٰ کی قوم میں سے تھا اور تیرھواں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر فرمایا جو موسیٰ کی قوم کا خاتم الانبیاء تھا مگر درحقیقت موسیٰ کی قوم میں سے نہیں تھا اور پھر خدا نے محمدی سلسلہ کے خلیفوں کو موسوی