اور نکمی ہو کہ جب کسی فتنہ کے دور کرنے کا موقع آوے تو اس کے دُور کرنے کے لئے کوئی شخص باہر سے مامور ہو اور اس اُمت میں کوئی ایسا لائق نہ ہو کہ اس فتنہ کو دور کر سکے۔ گویا اس امت کی اس صورت میں وہ مثال ہوگی کہ مثلاً کوئی گورنمنٹ ایک نیا ملک فتح کرے جس کے باشندے جاہل اور نیم وحشی ہوں تو آخر اس گورنمنٹ کو مجبوری سے یہ کرنا پڑے کہ اس ملک کے مالی اور دیوانی اور فوجداری کے انتظام کے لئے باہر سے لائق آدمی طلب کرکے معزز عہدوں پر ممتاز کرے۔ سو ہر گز عقل سلیم قبول نہیں کر سکتی کہ جس امت کے ربّانی علماء کی نسبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل یعنی میری امت کے علماء اسرائیلی پیغمبروں کی طرح ہیں اخیر پر ان کی یہ ذلّت ظاہر کرے کہ دجّال جو خدائے عظیم القدرت کی نظر میں کچھ بھی چیز نہیں اس کے فتنہ کے فرو کرنے کے لئے اُن میں مادۂ لیاقت نہ پایا جائے۔ اس لئے ہم اسی طرح پر جیسا کہ آفتاب کو دیکھ کر پہچان لیتے ہیں کہ یہ آفتاب ہے اس آیت 33 ۱؂ کو پہچانتے ہیں اور اس کے یہی معنے کرتے ہیں کہ کنتم خیر امۃٍ اخرجت لشرالناس الذی ھوالدجال المعھود۔ یاد رہے کہ ہر ایک اُمت سے ایک خدمت دینی لی جاتی ہے اور ایک قسم کے دشمن کے ساتھ اس کا مقابلہ پڑتا ہے سو مقدر تھا کہ اس اُمت کا دجّال کے ساتھ مقابلہ پڑے گا جیسا کہ حدیث نافع بن عتبہ سے مسلم میں صاف لکھا ہے کہ تم دجّال کے ساتھ لڑو گے اور فتح پاؤ گے۔ اگرچہ صحابہ دجّال کے ساتھ نہیں لڑے مگر حسب منطوق اٰخرین منھم مسیح موعود اور اس کے گروہ کو صحابہ قرار دیا۔* اب دیکھو اس حدیث میں بھی لڑنے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے