الحقیقۃ ۔ وانتم احق بھا واھلھا بعدا لصحابۃ ۔
و شما حق مے دارید واہل ایں امر ہستید کہ بعد صحابہ رضی اللہ عنہم
اور تم صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے بعد یہ حق رکھتے ہو اور اس بات کے اہل ہو کہ
وانکم الاٰخرون منھم اُلحقتم بِھِمْ بفضل من
ایں حقیقت را بفہمید۔ وشما از جملہ صحابہ گروہ آخری ہستید کہ بفضل خدا و رحمت او درایشاں
اس حقیقت کو سمجھو اور تم ان میں سے ایک آخری گروہ ہو جو خدا کے فضل اور رحمت سے اس کے ساتھ
اللّٰہ والرحمۃ ۔ وان سلسلۃ الازمنۃ خُتِمَتْ
داخل کردہ شدہ اید و سلسلہ زمانہ ہا از جناب احدیت بر زمانہ ما
شامل کئے گئے ہو۔ اور زمانوں کا سلسلہ جناب الٰہی سے ہمارے زمانہ پر
علٰی زماننا من حضرۃ الاحدیۃ ۔ کماخُتِمَتْ
ختم شدہ است ہمچنانکہ سلسلہ ماہ ہا
ختم ہوگیا ہے جیسا کہ اسلام کے مہینے
شھور الاسلام علٰی شھر الضحیۃ ۔ وفی ھٰذا اشارۃٌ
بر ماہ قربانی ختم شدہ است و دریں اشارتے پوشیدہ است
قربانی کے مہینہ پر ختم ہوگئے ہیں اور اس میں اہل رائے کے لئے
مخفیۃٌ لأھل الرأی والرویّۃ ۔ وانی علٰی مقام
برائے اہل الرائے و من بر مقام
ایک پوشیدہ اشارہ ہے اور میں ولایت کے
الختم من الولایۃ ۔ کما کان سیّدی المصطفٰی
ختم ولایت ہستم یعنی برمن ولایت ختم گردیدہ ہمچنانکہ برسیدی حضرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم
سلسلہ کو ختم کرنے والا ہوں جیسا کہ ہمارے سید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم