التام ۔ فانہٗ اٰخر الازمنۃ وان ھٰذا الشھر
چراکہ ایں زمانہ ما زمانہ آخری است ہم چنیں ایں ماہ ما
کیونکہ یہ آخری زمانہ ہے اور یہ مہینہ بھی
اٰخرالاشھر من شھور الاسلام ۔ وکلا ھما
ازماہ ہائے اسلام آخری واقع شدہ و ہردو
اسلام کے مہینوں میں سے آخری ہے اور دونوں
قریبٌ من الاختتام ۔ فی ھٰذا ضحایا وفی ذٰلک
قریب الاختتام اند دریں قربانی ہا ہستند و دراں نیز
ختم ہونے کے قریب ہیں اس آخری مہینہ میں بھی قربانیاں ہیں اور اس
ضحایا ۔ والفرق فرق الاصل وعکس المرایا ۔
قربانیہا ہستند و فرق صرف فرق اصل و عکس است
آخری زمانہ میں بھی قربانیاں ہیں۔ اور فرق صرف اصل اور عکس کا ہے جو آئینہ میں پڑتا ہے
وقد سبق نموذجھا فی زمن خیر البرایا ۔
و نمونہ آں در زمانہ بہترین مخلوقات بگذشت
اور اس کا نمونہ زمانۂ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں گذر چکا ہے۔
والاصل ضحیّۃ الروح یا اولی الابصار ۔ وان ضحایا
و اصل امر اے دانشمنداں قربانی روح است و قربانی ہائے
اور اصل روح کی قربانی ہے اے دانشمندو! اور بکروں کی قربانیاں
الجدایا کالاظلال والاٰثار ۔ فافھموا سرّ ھٰذہ
گوسپنداں ہمچو اظلال و آثار واقع شدہ است پس ایں حقیقت را بفہمید
روح کی قربانی کے لئے مثل سایوں اور آثار کے ہیں پس اس حقیقت کو سمجھ لو