وتمّ ما قال النبیون ۔فبایّ حدیث بعدہ تؤمنون ۔ وہمہ آنچہ انبیاء گفتہ بودند بظہور رسید پس بعد ازیں بکدام حدیث ایمان خواہید آورد اور وہ سب جو کچھ نبیوں نے کہا تھا ظہور میں آیا پس اس کے سوا کس بات کو مانو گے۔ ایھا الناس قوموا للّٰہ زرافاتٍ وفرادٰی فرادٰی ۔ اے مردماں برائے خدا شماہمہ یا یک یک برخیزید اے لوگو! خدا کے لئے تم سب کے سب یا اکیلے اکیلے خدا کا خوف کر کے ثم اتقوا اللّٰہ وفکروا کالذی مابخل وماعادٰی ۔ باز از خدا بترسید وہمچو شخصے فکر کنید کہ نہ بخل مے کند و نہ دشمنی۔ اس آدمی کی طرح سوچو جو نہ بخل کرتا ہے اور نہ دشمنی۔ الیس ھٰذا الوقت وقت رحم اللّٰہ علی العباد ۔ آیا ایں وقت وقت رحم خدا بربندگان نیست؟ کیا یہ وہ زمانہ نہیں کہ خدا بندوں پر رحم کرے ؟ ووقت دفع الشر وتدارک عطش الاکباد وآیا وقت چناں نیست کہ بدی را دفع کردہ آید وتشنگی جگر ہا را بفرود آوردن باران تدارک اور کیا یہ وہ زمانہ نہیں کہ بدی کو دفع کیا جائے اور جگروں کی پیاس کا مینہ برسانے سے بالعھاد ۔ الیس سیل الشر قدبلغ انتھاء ہٗ ۔ کردہ آید؟ آیا سیلاب شر تا انتہائے خود نہ رسیدہ است؟ تدارک کیا جائے؟ کیا بدی کا سیلاب اپنی انتہا کو نہیں پہنچا؟ وذیل الجھل طوّل ارجاء ہٗ ۔ وفسد الملک و دامن جہل کنارہ ہائے خود را دراز نہ کردہ؟ وملک فاسد شد اور جہالت کے دامن نے اپنے کناروں کو نہیں پھیلایا؟ اور ملک فاسد ہوگیا