بالآخر مَیں ایک ضروری امر کی طرف اپنے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس منارہ میں ہماری یہ بھی غرض ہے کہ مینار کے اندر یا جیسا کہ مناسب ہو ایک گول کمرہ یا کسی اور وضع کا کمرہ بنا دیا جائے جس میں کم سے کم سو آدمی بیٹھ سکے اور یہ کمرہ وعظ اور مذہبی تقریروں کے لئے کام آئے گاکیونکہ ہمارا ارادہ ہے کہ سال میں ایک یا دو دفعہ قادیاں میں مذہبی تقریروں کا ایک جلسہ ہوا کرے اور اُس جلسہ میں ہر ایک شخص مسلمانوں اور ہندوؤں اور آریوں اور عیسائیوں اور سکھوں میں سے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے گا مگر یہ شرط ہوگی کہ دوسرے مذہب پر کسی قسم کا حملہ نہ کرے فقط اپنے مذہب اور اپنے مذہب کی تائید میں جو چاہے تہذیب سے کہے اس لئے لکھا جاتا ہے کہ ہمارے دوست اس اشتہار کو ہر ایک کاریگر معمار کو دکھلائیں اور اگر وہ کوئی عمدہ نمونہ اس مینارہ کاجس میں دونوں مطلب مذکورہ بالا پورے ہو سکتے ہوں* تو بہت جلد ہمیں اس سے اطلاع دیں۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد از قادیاں ۲۸؍ مئی ۱۹۰۰ء ؁ مطبوعہ ضیاء الاسلام پریس قادیاں