اِس حدیث کو سمجھ لیا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ یہ کہانی نہیں ہے اور خدا تعالیٰ لغو کاموں سے پاک ہے بلکہ اس حدیث کے ان الفاظ میں جو اول دمشق کا ذکر فرمایا اور پھر اس کے شرقی طرف ایک منارہ قرار دیا ایک عظیم الشان راز ہے اور وہ وہی ہے جوابھی ہم بیان کرچکے ہیں۔ یعنی یہ کہ تثلیث اور تین خداؤں کی بنیاد دمشق سے ہی پڑی تھی۔ کیا ہی منحوس وہ دن تھا جب پولوس یہودی ایک خواب کا منصوبہ بنا کر دمشق میں داخل ہوا اور بعض سادہ لوح عیسائیوں کے پاس یہ ظاہر کیا کہ خداوند مسیح مجھے دکھائی دیا اور اس تعلیم کے شائع کرنے کیلئے ارشاد فرمایا کہ گویا وہ بھی ایک خدا ہے بس وہی خواب تثلیث کے مذہب کی تخم ریزی تھی۔ غرض یہ شرکِ عظیم کا کھیت اول دمشق میں ہی بڑھا اور پھُولا اور پھر یہ زہر اَور اَور جگہوں میں پھیلتی گئی۔ پس چونکہ خدا تعالیٰ کو معلوم تھا کہ انسان کو خدا بنانے کا بنیادی پتھر اول دمشق میں ہی رکھا گیا اِس لئے خدا نے اُس زمانہ کے ذکر کے وقت کہ جب غیرت خدا وندی اس باطل تعلیم کو نابود کرے گی پھر دمشق کا ذکر فرمایا اور کہا کہ مسیح کا منارہ یعنی اُس کے نور کے ظاہر ہونے کی جگہ دمشق کی مشرقی طرف ہے۔ اِس عبارت سے یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ منارہ دمشق کی
سُمّی اَقْصٰی لبُعْدہ من زمان النبوّۃ ولما وقع فی اقصٰی طرفٍ من زمن ابتداء الاسلام فتدبر ھٰذا المقام فانہ اودع اسرارًا من اللّٰہ العلام۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج تین قسم پر منقسم ہے۔ سیر مکانی اور سیر زمانی اور سیر لامکانی ولا زمانی سَیر مکانی میں اشارہ ہے طرف غلبہ اور فتوحات پر یعنی یہ اشارہ کہ اسلامی ملک مکہ سے بیت المقدس تک پھیلے گا۔ اور سیر زمانی میں اشارہ ہے طرف تعلیمات اور تاثیرات کے یعنی یہ کہ مسیح موعود کا زمانہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تاثیرات سے تربیت یافتہ ہوگا جیسا کہ قرآن شریف میں فرمایا ہے 33 ۱۔اور سیر لامکانی ولازمانی میں اشارہ ہے طرف اعلیٰ درجہ کے قُرب اللہ اور مدانات کی جس پر دائرہ امکانِ قرب کا ختم ہے۔ فافھم۔منہ