اب ہمارے مخالف گو اس دمشقی حدیث کو بار بار پڑھتے ہیں مگر وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے کہ یہ جو اس حدیث میں بتلایا گیا ہے کہ مسیح موعود دمشق کی شرقی طرف کے منارہ کے قریب نازل ہوگا اس میں کیا بھید ہے بلکہ انہوں نے محض ایک کہانی کی طرح پس چونکہ مسیح اور مہدی موعود کا زمانہ زمان البرکات تھا اسی لئے خدا تعالیٰ نے اس کے حق میں فرمایا بَارَکْنَا حَوْلَہٗ یعنی مسیح موعود کی فرود گاہ کے ارد گرد جہاں نظر ڈالو گے ہر طرف سے برکتیں نظر آئیں گی چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ زمین کیسی آباد ہوگئی باغ کیسے بکثرت ہوگئے نہریں کیسی بکثرت جاری ہوگئیں تمدنی آرام کی چیزیں کیسی کثرت سے موجود ہوگئیں۔ پس یہ زمینی برکات ہیں۔ اور جیسے اس زمانہ میں زمینی اور آسمانی برکتیں بکثرت ظاہر ہوگئی ہیں ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تائیدات کا بھی ایک دریا چل رہا تھا۔ فحاصل البیان ان الزمان زمانان۔ زمان التائیدات ودفع الاٰفات و زمان البرکات والطیبات والیہ اشار عزاسمہ بقولہ 333 ۱؂ فاعلم ان لفظ مسجد الحرام فی قولہ تعالٰی یدل علٰی زمانٍ فیہ ظھرت عزۃ حرمات اللہ بتائید من اللّٰہ وظھرت عزۃ حدودہ واحکامہ و فرائضہ وتَرَاء ت شوکۃ دینہ ورعب ملّتہ۔ وھو زمان نبینا صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ والمسجد الحرام البیت الذی بناہ ابراھیم علیہ السلام فی مکۃ وھو موجود الٰی ھٰذا الوقت حرسہ اللّٰہ من کلّ آفۃ۔ واما قولہ عزّاسمہ بعد ھٰذا القول اعنی33فیدل علٰی زمانٍ فیہ یظھر برکاتٍ فی الارض من کل جھۃ کما ذکرناہ اٰنفا وھو زمان المسیح الموعود والمھدی المعہود والمسجد الاقصٰی ھو المسجد الذی بناہ المسیح الموعود فی القادیان