إلی قولہ ’’إنی أعلم ما لا تعلمون‘‘، عبرۃً للمجترئین۔
وما جرتْ ہذہ الأقوال علی ألسنہم إلا لیُتمّوا
نبأ اللّہ الذی سبق من قبل ولیُثبِتوا مضاہاتی
بآدم فی تہمۃ الفساد وسفک الدماء ، فأجابہم
اللّہ بوحیہ وقد طُبع وأُشیعَ ہذا الوحی قبلَ
قتل المشرِک الذی یزعمون فیہ کأنی قتلتُہ
وقبلَ موتِ نصرانیٍّ یزعمون فیہ کَأنَّ أصحابی
در زمین‘‘ تا قول ’’من میدانم آنچہ شمانمے دانید‘‘ وایں بجہت آں فرمود کہ جرأت کنندگان راعبرتے
حاصل آید۔ و ایں گفتارہا بر زبان ایشاں بجہت آں جاری شدہ کہ خبر خداوندی را
اتمام کنند کہ پیشتر مذکور شدہ بود و بجہت آنکہ مشابہت من با آدم
در تہمت فساد و خونریزی ثابت کنند پس خدا ایشاں را
بذریعہ وحی خود جواب داد۔ و ایں وحی پیش از
قتل آں مشرک کہ دربارہ آں گمان مے کنند کہ من او را کشت ام
و پیش از موت آں نصرانی کہ نسبت باو گمان مے برند کہ دوستانِ من برائے
زمین میں‘‘ اس آیت تک کہ انّی اعلم مالا تعلمون۔اور یہ اس لئے فرمایا کہ جرأت کرنے والوں کوعبرت
حاصل ہو۔ اور یہ باتیں ان کی زبان پر اس لئے جاری ہوئیں تا کہ خداتعالیٰ کی اِس
خبر کو پوری کریں جو پہلے مذکور ہو چکی اور اس لئے کہ میری مشابہت
آدم سے فساد اور خونریزی کی تہمت میں ثابت کریں پس خدا نے ان کو
اپنی وحی کے ذریعہ سے جواب دیا۔ اور یہ وحی
اس مشرک کے قتل سے پہلے جس کی نسبت اُن کا گمان ہے کہ مَیں نے اُسے قتل کیا ہے
اور اس نصرانی کی موت سے پہلے جس کی نسبت ان کا گمان ہے کہ میرے دوستوں نے