33 ۱۔اور جس کے منارؔ ہ کا ذکر حدیث میں بھی ہے کہ مسیح کا نزول منارہ کے پاس ہوگا۔ دمشق کا ذکر اس حدیث میں جومسلم نے بیان کی ہے اس غرض سے ہے کہ تین خدا بنانے کی تخم ریزی اوّل دمشق سے شروع ہوئی ہے اور مسیح موعود کا نزول اِس
قرآن شریف کی یہ آیت کہ33
33 ۱ معراج مکانی اور زمانی دونوں پر مشتمل ہے اور بغیر اس کے معراج ناقص رہتا ہے پس جیسا کہ سیر مکانی کے لحاظ سے خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد الحرام سے بیت المقدس تک پہنچا دیا تھا ایسا ہی سیر زمانی کے لحاظ سے آنجناب کو شوکت اسلام کے زمانہ سے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا برکات اسلامی کے زمانہ تک جومسیح موعود کا زمانہ ہے پہنچا دیا*۔پس اس پہلو کے رو سے جو اسلام کے انتہاء زمانہ تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سیر کشفی ہے مسجد اقصٰی سے مراد مسیح موعود کی مسجد ہے جو قادیاں میں واقع ہے جس کی نسبت براہین احمدیہ میں خدا کا کلام یہ ہے۔ مبارک و مبارک وکل امر مبارک یجعل فیہ۔ اور یہ مبارک کا لفظ جو بصیغہ مفعول اور فاعل واقع ہوا قرآن شریف کی آیت بارکنا حولہ کے مطابق ہے۔ پس کچھ شک نہیں جو قرآن شریف میں قادیان کا ذکر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔33333۔ اس آیت کے ایک تو وہی معنے ہیں جو علماء میں مشہور ہیںیعنی یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مکانی معراج کا یہ بیان ہے۔ مگر
شوکت اسلام کا زمانہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا اس کا اثر غالب یہ تھا کہ حضرت موسیٰ کی طرح مومنوں کو کفار کے حملہ سے نجات دی اس لئے بیت اللہ کا نام بھی بیت آمن رکھا گیا۔ لیکن زمانہ برکات کا جومسیح موعود کا زمانہ ہے اس کا یہ اثر ہے کہ ہر قسم کے آرام زمین میں پیدا ہو جائیں اور نہ صرف امن بلکہ عیش رغد بھی حاصل ہو۔ منہ