اَب اے دوستو! یہ منارہ اس لئے طیار کیا جاتا ہے کہ تا حدیث کے موافق مسیح موعود کے زمانہ کی یادگار ہو اور نیز وہ عظیم پیشگوئی پوری ہو جائے جس کا ذکر قرآن شریف کی اِس آیت میں ہے کہ لائق ہے کہ تمام میناروں سے اونچا ہو کیونکہ یہ منارہ مسیح موعود کے احقاق حق اور صَرفِ ہمت اور اتمامِ حجّت اور اعلاء ملّت کی جسمانی طور پر تصویرہے پس جیسا کہ اسلامی سچائی مسیح موعودکے ہاتھ سے اعلیٰ درجہ کے ارتفاع تک پہنچ گئی ہے اور مسیح کی ہمت ثریّا سے ایمان گم گشتہ کو واپس لارہی ہے اسی کے مطابق یہ مینار بھی روحانی امور کی عظمت ظاہر کررہا ہے۔ وہ آواز جو دنیا کے ہر چہار گوشہ میں پہنچائی جائے گی وہ روحانی طور پربڑے اونچے مینار کوچاہتی ہے۔ قریبًا بیس برس ہوئے کہ مَیں نے اپنی کتاب براہین احمدیہ میں خدا تعالیٰ کا یہ کلام جومیری زبان پر جاری کیا گیا لکھا تھا۔ یعنی یہ کہ انا انزلناہ قریبًا من القادیان۔ وبالحق انزلناہ وبالحق نزل صدق اللّٰہ ورسوؔ لہ وکان امر اللّٰہ مفعولا۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ۴۹۸۔ یعنی ہم نے اس مسیح موعود کو قادیان میں اتارا ہے اور وہ ضرورتِ حقہ کے ساتھ اُتارا گیا اور ضرورت حقہ کے ساتھ اترا۔ خدا نے قرآن میں اور رسول نے حدیث میں جو کچھ فرمایاتھا وہ اُس کے آنے سے پورا ہوا۔ اس الہام کے وقت جیسا کہ مَیں کئی دفعہ لکھ چکا ہوں مجھے کشفی طور پر یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ یہ الہام قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے اور اس وقت عالم کشف میں میرے دل میں اس بات کا یقین تھا کہ قرآن شریف میں تین شہروں کا ذکر ہے۔ یعنی مکّہ اورمدینہ اور قادیاں کا۔ اس بات کو قریباً بیس برس ہوگئے جبکہ مَیں نے براہین احمدیہ میں لکھا تھااب اس رسالہ کی تحریر کے وقت میرے پر یہ منکشف ہوا کہ جو کچھ براہین احمدیہ میں قادیان کے بارے میں کشفی طورپر مَیں نے لکھا یعنی یہ کہ اس کاذکر قرآن شریف میں موجود ہے درحقیقت یہ صحیح بات ہے کیونکہ یہ یقینی امر ہے کہ