قبل أن تہلکوا ولا تغضَبوا علی داعی اللّہ ولا تحاربوا ربّکم أتقدرون أن تردّوا ما أراد اللّہ؟ ونعلم أنکم لا تقدرون. فاتّقوا اللّہ ولا تنسَوا المَنون. وإنّ وعد اللّہ حق، فاخشوا عواصف أیہا المتّقون. وإنہ مالکٌ یؤتی المُلک من یشاء ، وینْزع المُلک ممّن یشاء ، ألا تنظرون إلی قول اللّہ’’ 3 ‘‘ ۱ فقد
پیش از انکہ ہلاک بشوید و بر داعی خدا خشمناک مشوید و با
پروردگار خود جنگ پیش مگیرید۔ آیا مے توانید کہ ارادۂ خدا را رد بکنید
ماخوب میدانیم کہ شما نمے توانید پس از وے بترسید و مرگ را
یاد بکنید البتہ وعدۂ خدا حق است پس از تند بادہائے تباہی
خوف بکنید او مالک است ہر کرا خواہد ملک بدہد
واز دست ہر کہ خواہد باز بکشد آیا قول خدا را
نگاہ نمے کنید او کارہائے شما را خوب مے بیند
اس سے پہلے کے ہلاک ہو جاؤ۔ اور خدا کی طرف بلانے والے پر غصے مت ہو اور
اپنے رب سے مت لڑو کیا تم خدا کے ارادہ کو رد کر سکتے ہو؟
ہم خوب جانتے ہیں کہ تم نہیں کر سکتے۔ پس اس سے ڈرو اور موت کو
یاد کرو۔ خدا کا وعدہ بے شک حق ہے پس تباہی کی آندھیوں سے خوف کرو۔
وہ مالک ہے جس کو چاہے ملک دے
اور جس سے چاہے چھین لے کیا خدا تعالیٰ کے قول کو
نہیں دیکھتے وہ تمہارے کاموں کو خوب دیکھتا ہے۔