رَحْمتُہ، لکن المخالفین لا یبصرون، بل یروننی ویعبِسون ویسبّون ویشتمون، ویحلفون حلفًا علی حلف إنہ کاذب ولا یبقی سرٌّ إلا یُبدَی، ولا قضیۃ إلّا تُقضَی، فسیظہر ما فی قلبی وما فی قلبہم، ولا یُکتَم ما یکتُمون۔ہذان حزبان من المغضوب علیہم وأہل الصلبان ذکَرہما اللّہ فی الفاتحۃ، وأشار إلٰی أنہما یکثُران فی
فرو نمے گزارد و لیکن مخالفان نمے بینند بلکہ مرا می بینند
و سر کہ بر ابرو مے مالند و دشنام می دہند و سو گند بر سوگند
مے خورند کہ من کاذب ہستم و ہیچ رازے نماند کہ ظاہر نہ شود و
ہیچ قضیہ کہ فیصلہ نہ شود۔ قریب است کہ آنچہ در دل من است و آنچہ اوشاں
در دل دارند آشکار بشود ایں دو گروہ از
مغضوب علیہم و اہل صلیب ہستند کہ خدا
در فاتحہ ذکر ایشاں فرمودہ و اشارت کردہ کہ در آخر زمان اوشاں را
نہیں چھوڑتی لیکن مخالف نہیں دیکھتے بلکہ مجھ کو دیکھتے ہیں
اور چیں بہ جبیں ہوتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں اور قسم پر قسم
کھاتے ہیں کہ میں جھوٹا ہوں اور ایسا کوئی بھید نہیں رہا جو ظاہر نہ ہو اور
نہ کوئی قضیہ جو فیصلہ نہ ہو۔ قریب ہے کہ جو کچھ میرے دل میں ہے اور جو کچھ ان کے
دل میں ہے ظاہر ہو جائے۔ یہ دو گروہ
مغضوب علیہم اور اہل صلیب میں سے ہیں کہ خدا نے
فاتحہ میں ان کا ذکر کیا ہے اور اشارہ کیا ہے کہ آخر زمانہ میں