الحق فی تراب، ویمزّقوا أذیالہ ککلاب، ولا یفکّرون فی لیلہم ولا نہارہم أنہم یُسْألون۔ولو تیسّرَ لہم قتلی لقتلونی ولاغتالونی لو یُسرّون مقتلی، ولکن اللّہ خیّبہم فیما یقصدون۔ یمکرون کل مکرٍ لإعدامی، فینزل أمرٌ من السماء فیجعل مکرہم ہباءً وہم لا یعلمون۔ وإنّ معی قادرٌ لا یبرح مکانی حَفَظَتُہ، ولا یبعُد منی طرفۃَ عینٍ زیر خاک پنہاں کنند و دامن آنرا چوں سگان پارہ پارہ کنند و در روز و شب خویش فکر نمے کنند کہ آخر پرسیدہ خواہند شد۔ اگر مرا کشتن مے توانستند البتہ مے کشتند لیکن خدا اوشان را ناکام و نامراد گردانید برائے نابود کردن من مکر ہا درکار مے کنند دریں اثنا امرے از آسمان پیدا مے شود کہ مکر اوشاں را برباد مے دہد و اوشاں نمے دانند بامن قادریست کہ پاسبانان او از مکان من دور نمی شوند و رحمتش مرا بیک چشم زدن خاک کے نیچے چھپا دیں اور اس کے دامن کو کتوں کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کر دیں اور اپنے رات اور دن میں فکر نہیں کرتے کہ آخر پوچھے جائیں گے اگر مجھ کو قتل کر سکتے تو ضرور قتل کرتے۔ لیکن خدا نے ان کو ناکام اور نا مراد رکھا میرے نابود کرنے میں مکر کام میں لاتے ہیں تب آسمان سے ایک ایسا امر نازل ہوتا ہے کہ ان کے مکر کو برباد کر دیتا ہے اور وہ نہیں جانتے میرے ساتھ ایک ایسا قادر ہے کہ اس کے نگہبان میرے گھر سے دور نہیں ہوتے اور اس کی رحمت ایک لمحہ بھی مجھ کو