فصارت اھواء کم کاھواء ھم وقرب أن تجزون
پس خواہش شما خواہش ایشاں گردید و نزدیک است کہ شما
تمہاری اور ان کی ایک خواہش ہوگئی اور قریب ہے کہ تم کو بھی وہی سزا ملے
کجزاء ھم فاتّقوا اللّٰہ ولا تتّبعوا سنن المغضوب
بہموں پاداش گرفتار بشوید کہ ایشاں شدند پس از خدابترسید و برراہ قوم مغضوب علیہم
جو ان کو ملی پس خدا سے ڈرو اور مغضوب علیہم قوم کی راہ پر نہ چلو
علیھم فیمسّکم العذاب وانتم تقرء ون الفاتحۃ
رفتار نکنید کہ شمارا عذاب برسد و شما فاتحہ را میخوانید
ورنہ تم پر عذاب ہوگا اور تم سورۂ فاتحہ کو پڑھتے ہو
الا تعلمون۔ وقد سمّی اللّٰہ تلک الیھود
آیا نمے دانید کہ خدا آں یہود را بنام
کیا تم نہیں جانتے کہ خدا نے ان یہودیوں کا نام
المغضوب علیھم وحذّرکم فی امّ الکتاب ان
مغضوب علیہم یاد کرد و درسورۃ فاتحہ شمارا بترسانید ازیں کہ
مغضوب علیہم رکھا اور سورۃ فاتحہ میں تم کو اس بات سے ڈرایا کہ
تکونوا کمثلھم وذکّرکم انّھم اھلکوا بالطّاعون
شما مانند اوشاں شوید وشمارا یاد بداد کہ اوشاں باطاعون ہلاک شدند
تم ان جیسے ہو جاؤ اور تم کو یاد دلایا کہ وہ طاعون سے ہلاک کئے گئے
فما لکم تنسون وصایا اللّٰہ ولا تتّقون ربّکم
چہ شد کہ احکام خدا را فراموش مے کنید و ازو نمے ترسید
تمہیں کیا ہوگیا کہ تم خدا کے حکموں کو بھول گئے اور اس سے نہیں ڈرتے