انی بعثتُ فیکم من اللّٰہ الذی لا توقرونہٗ
من درشما از جانب خدائے مبعوث شدہ ام کہ او را عزت نمے کنید
میں تم میں اس خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوا ہوں جس کی تم عزت نہیں کرتے
لانذرقومًا اطرء وا ابن مریم عیسٰی ۔
برائے اینکہ آں قوم را بتر سانم کہ درحق ابن مریم مبالغہ کردہ اند۔
اور میں قوم کو اسی واسطے ڈراتا ہوں کہ ابن مریم علیہ السلام کے حق میں مبالغہ کرتے ہیں
الباب الثالث
یاقوم ماھٰذہ التماثیل التی انتم لھا
اے قوم! ایں چہ تصویر ہاست کہ برآنہا سرنگوں
اے قوم! یہ کیسے بت ہیں کہ جن پر
عاکفون۔ اتترکون کلام اللّٰہ لاَ قْوَالٍ لا تعرفونھا
نشستہ اید۔ آیا کلام خدا را ترک مے کنید بعوض گفتارہائے کہ حقیقت آنرا
اعتکاف کئے بیٹھے ہو۔ کیا خدا کے کلام کو ترک کرتے ہو ان باتوں کے عوض میں کہ انکی حقیقت کی
اُفٍّ لکم ولما تنحتون۔ وما تحقّقت عندکم
نمے شناسید۔ تف برشما وبر تراشیدہ ہائے شما و آں قولہا و
شناخت نہیں کرتے۔ تم پر اور تمہاری خود تراشیدہ باتوں پر افسوس۔ وہ قول اور ان کے قائل
تلک الاقوال ولا قائلھا وان انتم الّا تظنون۔
قائل آنہا نزد شما ثابت نیستند و شما پیروی وہم مے کنید
تمہارے نزدیک ثابت نہیں ہیں اور تم وہم کی پیروی کرتے ہو