وقد اشیر الیہ فی الفاتحۃ مرۃً اخرٰی۔ وتقرء ون
و در سورہ فاتحہ بار دوم سوئے ایں وعدہ اشارت کردہ شدہ۔ و ایں سورہ فاتحہ
اور سورہ فاتحہ میں دوسری بار اس وعدہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور یہ آیت سورہ فاتحہ
فی الصلٰوۃ صراط الذین انعمت علیھم ثم تستقرون
یعنی صراط الذین انعمت علیھم در نماز ہائے خود مے خوانید باز حیلہ جوئی را
یعنی صراط الذین انعمت علیھم اپنی نمازوں میں پڑھتے ہیں۔ پھر حیلہ و بہانہ
سُبل الانکار وتسّرون النجویٰ ۔ مالکم تدوسون
اختیار مے کنید دبرائے رفع دفع حجت الٰہی مشورہ ہا مے کنید ۔ چہ شد شمارا کہ
اختیار کرتے ہیں اور حجت الٰہی کے رفع دفع کیلئے مشورے کرتے ہیں تمہیں کیا ہوگیا کہ
قول اللّٰہ تحت الاقدام الا تموتون اوتترکون
قول خدا تعالیٰ را زیر قدمہائے خود پامال مے کنید آیا نخواہید مرد یا ہیچ کس شمارا نخواہد پرسید
خدا تعالیٰ کے فرمودہ کو اپنے پیروں میں روندتے ہو۔ کیا ایک دن تم نہیں مرو گے یا کوئی تم کو نہیں پوچھے گا
سدًی ۔ وتذکروننی کما یُذْکَرُ الکفّار وتقولون
و ذکر من ہمچو ذکر کافراں مے کنید ومے گوئیدکہ
اور میرا ذکر کافروں کے ذکر کی طرح کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ
اقتلوہ ان استطعتم وتکتبون الفتوٰی ۔ وما
اگر توانیداو را قتل کنید و ہم چنیں فتویٰ مے نویسید و
اگر ہو سکے تو قتل کر دیا جائے اور اسی طرح فتوے لکھتے ہیں اور
کان لنفسٍ ان تموت الّاباذن اللّٰہ وانّ معی
ہیچ نفس نمے میرد مگر باذن الٰہی وبامن
کوئی نفس بجز اذن الٰہی نہیں مرتا اور میرے ساتھ تو