ومفسدۃٌ عظمٰی۔ وکیف تترکون القراٰن واي و مفسدہ عظیمہ است وچگونہ ترک مے کنید قرآن شریف را و کدام خارج ہونا مفسدہ عظیمہ ہے۔ تم قرآن کو کیونکر ترک کرتے ہو کیا کوئی شھادۃٍ اکبر منہ لمن اھتدٰی ۔ وان للقراٰن گواہی بزرگتر از قرآن نزد شما موجودہ است و قرآن را بڑی بھاری گواہی قرآن سے زیادہ تمہارے پاس موجود ہے؟ اور قرآن کی وہ شانًا اَعْظم من کلّ شان وانہٗ حَکَمٌ ومھیمنٌ شانے است بزرگتر از ہر شان واو حکم است یعنی فیصلہ کنندہ و مہمین است یعنی برہمہ اعلیٰ شان ہے کہ ہر ایک شان سے بلند ہے اور وہ حکم ہے یعنی فیصلہ کرنیوالا اور وہ مہمین ہے یعنی و انہٗ جمع البراھین وبدّد العدا ۔ وانہٗ ہدایت ہا احاطہ مے دارد واو جمع کردہ است ہمہ دلائل را وجمعیت دشمناں را پراگندہ نمودہ و آں تمام ہدایتوں کا مجموعہ ہے اس نے تمام دلیلیں جمع کردیں اور دشمنوں کی جمعیت کو تتر بتر کر دیا۔ اور وہ ایسی کتابٌ فیہ تفصیل کلّ شی ءٍ وفیہ اخبار مایأتی کتابے است کہ درو تفصیل ہر چیز است و درو خبر آیندہ کتاب ہے کہ اس میں ہر چیز کی تفصیل ہے اور اس میں آئندہ اور ومامضٰی ۔ ولایاتیہ الباطل من م بین یدیہ وگذشتہ است وباطل را سوئے او راہے نیست نہ از پیش گذتہ کی خبریں موجود ہیں اور باطل کو اس کی طرف راہ نہیں ہے نہ آگے سے ولا من خلفہٖ وانہٗ نور ربنا الاعلٰی ۔ فاترک و نہ از پس و او نور خدائے بزرگ است پس بگذارید نہ پیچھے سے اور وہ خدا تعالیٰ کا نور ہے۔ ہریک ایسے