علیہؔ السلام کی شان میں ایک گستاخی اور ترک ادب خیال کرتے ہیں۔ اور بُدھ مذہب کی کتابوں میں جو یہ لکھا گیا کہ یسوع بُدھ کا مرید یا شاگرد تھا تو یہ تحریر اس قوم کے علماء کی ایک پرانی عادت کے موافق ہے کہ وہ پیچھے آنے والے صاحب کمال کو گذشتہ صاحبِ کمال کا مرید خیال کر لیتے ہیں۔ علاوہ اس کے جبکہ حضرت مسیح کی تعلیم اور بُدھ کی تعلیم میں نہایت شدید مشابہت ہے جیسا کہ بیان ہو چکا تو پھر اس لحاظ سے کہ بُدھ حضرت مسیح سے پہلے گذر چکا ہے بُدھ اور حضرت مسیح میں پیری اور مریدی کا ربط دینا بیجا خیال نہیں ہے گو طریق ادب سے دور ہے۔ لیکن ہم یورپ کے محققوں کی اس طرز تحقیق کو ہرگز پسند نہیں کرسکتے کہ وہ اس بات کی تفتیش میں ہیں کہ کسی طرح یہ پتہ لگ جائے کہ بُدھ مذہب مسیح کے زمانہ میں فلسطین میں پہنچ گیا تھا۔ مجھے افسوس آتا ہے کہ جس حالت میں بُدھ مذہب کی پرانی کتابوں میں حضرت مسیح کا نام اور ذکر موجود ہے تو کیوں یہ محقق ایسی ٹیڑھی راہ اختیار کرتے ہیں کہ فلسطین میں بُدھ مذہب کا نشان ڈھونڈتے ہیں اور کیوں وہ حضرت مسیح کے قدم مبارک کو نیپال اور تبت اور کشمیر کے پہاڑوں میں تلاش نہیں کرتے۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ اتنی بڑی سچائی کو ہزاروں تاریک پردوں میں سے پیدا کرنا ان کا کام نہیں تھا بلکہ یہ اس خدا کا کام تھا جس نے آسمان سے دیکھا کہ مخلوق پرستی حد سے زیادہ زمین پر پھیل گئی اور صلیب پرستی اور انسان کے ایک فرضی خون کی پرستش نے کروڑہا دلوں کو سچے خدا سے دور کردیا۔ تب اس کی غیرت نے ان عقائد کے توڑنے کے لئے جو صلیب پر مبنی تھے ایک کو اپنے بندوں میں سے دنیا میں مسیح ناصری کے نام پر بھیجا۔ اور وہ جیسا کہ قدیم سے وعدہ تھا مسیح موعود ہو کر ظاہر ہوا۔ تب کسرِ صلیب کا وقت آگیا یعنی وہ وقت کہ صلیبی عقائد کی غلطی کو ایسی صفائی سے ظاہر کردینا جیسا کہ ایک لکڑی کو دو ٹکڑے کر دیا جائے۔ سو اب آسمان نے کسرِ صلیب کی ساری راہ کھول دی تا وہ شخص جو سچائی کا طالب ہے اب