ایکؔ جاپانی شخص ہے جس نے آئی سنگ کی کتاب کا ترجمہ کیا ہے۔ اور آئی سنگ ایک چینی سیاح ہے جس کی کتاب کے حاشیہ پر اور ضمیمہ میں ٹکاکوسو نے تحریر کیا ہے کہ ایک قدیم تالیف میں مِیْ شِیْ ہُوْ (مسیح) کا نام درج ہے اور یہ تالیف قریباً ساتویں صدی کی ہے۔۔۔ اور پھر اس کا ترجمہ حال میں ہی کلیرنڈن پریس آکسفورڈ میں جی ٹکاکوسو نام ایک جاپانی نے کیا ۔* غرض اس کتاب میں مشیح کا لفظ موجود ہے جس سے ہم بہ یقین سمجھ سکتے ہیں کہ یہ لفظ بُدھ مذہب والوں کے پاس باہر سے نہیں آیا بلکہ بُدھ کی پیشگوئی سے یہ لفظ لیا گیا ہے جس کو کبھی انہوں نے مشیح کر کے لکھا اور کبھی بگوا متیّا کر کے۔
اور منجملہ ان شہادتوں کے جو بُدھ مذہب کی کتابوں سے ہم کو ملی ہیں ایک یہ ہے کہ بُدھ ایزم مصنفہ سر مونیر ولیم صفحہ ۱۵۴ میں لکھا ہے کہ چھٹا مُرید بُدھ کا ایک شخص تھا جس کا نام یسا تھا۔ یہ لفظ یسوع کے لفظ کا مخفّف معلوم ہوتا ہے۔ چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام بُدھ کی وفات سے پانچسوبرس گذرنے کے بعد یعنی چھٹی صدی میں پیدا ہوئے تھے اس لئے چھٹا مرید کہلائے۔ یاد رہے کہ پروفیسر میکسمولر اپنے رسالہ نائن ٹینتھ سنچری۲ اکتوبر ۱۸۹۴ء صفحہ ۵۱۷ میں گذشتہ بالا مضمون کی ان الفاظ سے تائید کرتے ہیں کہ یہ خیال کئی دفعہ ہر دل عزیز مصنفوں نے پیش کیا ہے کہ مسیح پر بُدھ مذہب کے اصولوں نے اثر ڈالا تھا اور پھر لکھتے ہیں کہ آج تک اس دِقّت کے حل کرنے کے لئے کوشش ہو رہی ہے کہ کوئی ایسا سچا تاریخی راستہ معلوم ہو جائے جس کے ذریعہ سے بُدھ مذہب مسیح کے زمانہ میں فلسطین میں پہنچ سکا ہو‘‘ اب اس عبارت سے بُدھ مذہب کی ان کتابوں کی تصدیق ہوتی ہے جن میں لکھا ہے کہ یسا بُدھ کا مرید تھا۔ کیونکہ جبکہ ایسے بڑے درجہ کے عیسائیوں نے جیسا کہ پروفیسر میکسمولر ہیں اس بات کو مان لیا ہے کہ حضرت مسیح کے دل پر بُدھ مذہب کے اصولوں کا ضرور اثر پڑا تھا تو دوسرے لفظوں میں اسی کا نام مرید ہونا ہے۔ مگر ہم ایسے الفاظ کو حضرت مسیح
دیکھو صفحہ ۱۶۹و۲۲۳ کتاب ھٰذا۔ منہ