اور ؔ نہ کسی دوسری گورنمنٹ کے نیچے سچی اور کامل اطاعت اور وفاداری سے بسر کر سکتے ہیں اور ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ ایسا عقیدہ سخت اعتراض کی جگہ ہے کہ غیر قوموں پر اس قدر جبر کیا جائے کہ یا تو بلاتوقف مسلمان ہوجائیں اور یا قتل کئے جائیں۔ اور ہر ایک کانشنس بآسانی سمجھ سکتا ہے کہ قبل اس کے کہ کوئی شخص کسی دین کی سچائی کو سمجھ لے اور اس کی نیک تعلیم اور خوبیوں سے مطلع ہو جائے یونہی جبر اور اکراہ اور قتل کی دھمکی سے اس کو اپنے دین میں داخل کرنا سخت ناپسندیدہ طریقہ ہے اور ایسے طریقہ سے دین کی ترقی توکیا ہوگی بلکہ برعکس اس کے ہر ایک مخالف کو اعتراض کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اور ایسے اصولوں کا آخری نتیجہ یہ ہے کہ نوع انسان کی ہمدردی بکلّی دل سے اٹھ جائے اور رحم اور انصاف جو انسانیت کا ایک بھاری خلق ہے ناپدید ہوجائے اور بجائے اُس کے کینہ اور بد اندیشی بڑھتی جائے اور صرف درندگی باقی رہ جائے اور اخلاقِ فاضلہ کا نام و نشان نہ رہے۔ مگر ظاہر ہے کہ ایسے اصول اس خدا کی طرف سے نہیں ہو سکتے جس کا ہر ایک مواخذہ اتمام حجت کے بعد ہے۔ سوچنا چاہئیے کہ اگر مثلاً ایک شخص ایک سچے مذہب کو اس وجہ سے قبول نہیں کرتا کہ وہ اس کی سچائی اور اس کی پاک تعلیم اور اس کی خوبیوں سے ہنوز ناواقف اور بے خبر ہے تو کیا ایسے شخص کے ساتھ یہ برتاؤ مناسب ہے کہ بلاتوقّف اس کو قتل کردیا جائے بلکہ ایسا شخص قابلِ رحم ہے اور اس لائق ہے کہ نرمی اور خلق سے اُس مذہب کی سچائی اور خوبی اور روحانی منفعت اُس پر ظاہر کی جائے نہ یہ کہ اس کے انکار کا تلوار یا بندوق سے جواب دیا جائے۔ لہٰذا اس زمانہ کے ان اسلامی فرقوں کا مسئلہ جہاد اور پھر اُس کے ساتھ یہ تعلیم کہ عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے کہ جب ایک خونی مہدی پیدا ہوگا جس کا نام امام محمد ہوگا اور مسیح اس کی مدد کے لئے آسمان سے اترے گا اور وہ دونوں مل کر دنیا کی تمام غیر قوموں کو اسلام کے انکار پر قتل کردیں گے۔ نہایت درجہ اخلاقی مسئلہ کے مخالف ہے۔ کیا یہ وہ عقیدہ نہیں ہے کہ جو انسانیت کے تمام پاک قویٰ کو معطل کرتا اور درندوں کی طرح جذبات پیدا کردیتا ہے اور ایسے عقائد والوں کو ہر ایک قوم