یہ ؔ ان ملکوں اور شہروں کا نقشہ ہے جن سے حضرت مسیح علیہ السلام کا کشمیر کی طرف آتے ہوئے گذر ہوا۔ اس سیر و سیاحت سے آپ کا یہ ارادہ تھا کہ تا اول ان بنی اسرائیل کو ملیں جن کو شاہ سلمنذر پکڑ کر ملک میدیا میں لے گیا تھا۔ اور یاد رہے کہ عیسائیوں کے شائع کردہ نقشہ میں میدیا بحیرہ خزر کے جنوب میں دکھایا گیا ہے جہاں آج کل فارس کا ملک واقع ہے۔ اس سے سمجھ سکتے ہیں کہ کم سے کم مید یا اس ملک کا ایک حصہ تھا جسے آج کل فارس کہتے ہیں اور فارس کی مشرقی حد افغانستان سے متصل ہے اور اس کے جنوب میں سمندر ہے۔ اور مغرب میں ملک روم۔ بہر حال اگر روضۃ الصفا کی روایت پر اعتبار کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا نصیبین کی طرف سفر کرنا اس غرض سے تھا کہ تا فارس کی راہ سے افعانستان میں آویں اور ان گمشدہ یہودیوں کو جو آخر افغان کے نام سے مشہور ہوئے حق کی طرف دعوت کریں افغان کا نام عبرانی معلوم ہوتا ہے۔ یہ لفظ ترکیبی ہے جس کے معنی بہادر ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی فتح یابیوں کے وقت یہ خطاب بہادر کا اپنے لئے مقرر کیا۔ * اب حاصل کلام یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام افعانستان سے ہوتے ہوئے پنجاب کی طرف آئے۔ اس ارادہ سے کہ پنجاب اور ہندوستان دیکھتے ہوئے پھر کشمیر کی طرف قدم اٹھاویں۔ یہ تو ظاہر ہے کہ افغانستان اور کشمیر کی حد فاصل چترال کا علاقہ اور کچھ حصہ پنجاب کا ہے۔ اگر افعانستان سے کشمیر میں پنجاب کے رستے سے آویں تو قریبًا اسّی کوس یعنی ۱۳۰ میل کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے اور چترال کی راہ سے سو کوس توریت میں بنی اسرائیل کے لئے وعدہ تھا کہ اگر تم آخری نبی پر ایمان لاؤ گے تو آخری زمانہ میں بہت سی مصیبتوں کے بعد پھر حکومت اور بادشاہت تم کو ملے گی۔ چنانچہ وہ وعدہ اس طور پر پورا ہوا کہ بنی اسرائیل کی دس قوموں نے اسلام اختیار کر لیا۔ اسی وجہ سے افغانوں میں بڑے بڑے بادشاہ ہوئے اور نیز کشمیریوں میں بھی۔ منہ