پر وؔ اقع ہے اور فارس کی مغربی حد سے قریباً نو سو میل کے فاصلہ پر ہے اور ہرات سے درہ خیبر تک قریبًا پانسو میل کا فاصلہ ہے۔ دیکھو نقشہ ھٰذا۔ * یو۔سی۔بیئس۔اے عیسائی تاریخ یونانی جس کو ہین مرنامی ایک شخص لندن کے رہنے والے نے ۱۶۵۰ء میں انگریزی زبان میں ترجمہ کیا اس کے پہلے باب چودھویں فصل میں ایک خط ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بادشاہ ابگیرس نام نے دریائے فرات کے پار سے حضرت عیسیٰ کو اپنے پاس بلایاتھا۔ ابگیرس کا حضرت عیسٰی کی طرف خط اورحضرت عیسیٰ کا جواب بہت جھوٹ اور مبالغہ سے بھرا ہوا ہے۔ مگر اس قدر سچی بات معلوم ہوتی ہے کہ اس بادشاہ نے یہودیوں کا ظلم سن کر حضرت عیسیٰ کو اپنے پاس پناہ دینے کے لئے بلایا تھا اور بادشاہ کو خیال تھا کہ یہ سچا نبی ہے۔ منہ