اقول۔میں سچ سچ کہتاہوں کہ یہ سب صفات آپ لوگوں میں ہیں بلکہ آپ لوگ دہریوں سے بدتر ہیں کیونکہ دہریہ توخدا تعالیٰ کی ہستی پر اپنے زعمِ باطل میں دلیل نہیں پاتا۔ مگر آپ لوگ ایمان کا دعویٰ کرکے بھی پھر قابلِ نفرت جھوٹ بول رہے ہیں کیونکہ آپ لوگ جب یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے تواس وقت آپ لوگ صریح خدا اور اس کے رسول پر افترا کرتے ہیں اور اگر افترا نہیں کرتے تو تمہیں خدا کی قسم ہے کہ بتلاؤ کہ قرآن شریف میں کہاں لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت نہیں ہوئے۔ افسوس کہ قرآن شریف میں 3 ۱ کی آیت پڑھتے ہو اور خوب جانتے ہو کہ سارے قرآن شریف میں ہرجگہ توفّیبمعنی قبض روح ہے۔ اور ایسا ہی یقین رکھتے ہو کہ تمام حدیثوں میں بھی توفّیبمعنی قبض روح ہے اور پھر افترا کے طور پرکہتے ہو کہ اِس جگہ پر توفّیبمعنی زندہ اُٹھا لینے ؔ کے ہیں ۔ پس اگر تم اِس جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر افترا نہیں کرتے تو بتلاؤ اور پیش کرو کہ کس حدیث میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ مع جسم عنصری آسمان پر چلے گئے تھے۔ ہائے افسوس اس قدر جھوٹ اور افترا۔ اے لوگو! کیا تم نے مرنا نہیں کیا کبھی بھی قبر کا منہ نہیں دیکھو گے۔
از افتراء و کذب شماخوں شدست دل
داند خدا کہ زیں غم دیں چوں شدست دل
ہیچم عیاں نشد کہ شمارا بکینہ ام
زینساں چرادلیر و دگر گوں شدست دل
پھر جبکہ حدیث نبوی سے یہ ثابت نہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام مع جسم خاکی آسمان پر چلے گئے تھے یا جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر سے اُترنے والے ہیں اور قرآن اُن کو اُن لوگوں میں داخل کرتا ہے جو توفّی کے حکم کے نیچے ہیں اور معراج کی حدیث اِس بات کی تائید کرتی ہے کیونکہ آنحضرت نے معراج کی رات میں حضرت عیسیٰ کو