تجھے علماء سے مل گیا تو میں وعدہ کرتا ہوں کہ پھر تجھے تیرا پیش کردہ نشان دکھلادوں گا اور اگر نہ ملا تو تیرے جھوٹ کی یہ سزا تجھے کافی ہے کہ تیری ہی قوم کے نامی علماء نے تیری تکذیب کی اور ہماری طرف سے یہ پیشگوئی یاد رکھو کہ نامی علماء جیسے نذیر حسین دہلوی اور رشید احمد گنگوہی ہرگز تجھے یہ فتویٰ نہیں دیں گے اگر چہ تو اُن کے سامنے روتا روتا مر بھی جائے اور ناظرین کو چاہیے کہ اِس شخص کا جو خدا کی شریعت میں تحریف اور تلبیس کرتا ہے پیچھا نہ چھوڑیں جب تک ایسا فتویٰ علماء کا پیش نہ کرے۔ کیونکہ وہ طریق جو نشان مانگنے میں اُس نے اختیار کیا ہے وہ خدا سے ہنسی اور ٹھٹھا ہے۔ یاد رہے کہ سب سے پہلے دنیا میں شیطان نے حضرت عیسیٰ سے بیت المقدس میں نشان مانگا تھا اور کہا تھا کہ اپنے تئیں اس عمارت سے نیچے گرادے اگر زندہؔ بچ رہا تومیں تجھ پر ایمان لاؤں گا مگر حضرت مسیح نے فرمایا کہ دور ہو اے شیطان کیونکہ لکھا ہے کہ خدا کا امتحان نہ کر۔ اس جگہ ایک پادری صاحب انجیل کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ درحقیقت وہ انسان ہی تھا جس نے حضرت مسیح سے اقتراحی نشان مانگا تھا اور حضرت مسیح نے خود اُس کا نام شیطان رکھا کیونکہ اُس نے خدا کو اپنی مرضی کا محکوم بنانا چاہا۔ پس انجیل کے اِس قصے کی رُو سے میاں عبد الحق کے لئے بھی بڑی خوف کی جگہ ہے جب انسان امانت سے بات نہیں کرتا تو اُس وقت شیطان کا محکوم ہوتا ہے گویا خود وہی ہوتا ہے چنانچہ آیت 3 ۱؂ اِس کی شاہد ہے۔ قولہ۔ مرزا اور مرزائیوں کو قیامت اور حساب اور جنت او ردوزخ پر ایمان نہیں دہریہ مذہب معلوم ہوتے ہیں کیونکہ جس کو قیامت پر ایمان ہوتا ہے وہ ایساآزاد دھوکہ باز مفتری علی اللّٰہ وعلی الرسول وعلی الناس نہیں ہوتا۔