اِس سے یہی مطلب ہے کہ خدا سے ہم اپنے ترقی ایمان اور بنی نوع کی بھلائی کے لئے چار قسم کے نشان چار کمال کے رنگ میں چاہتے ہیں۔ نبیوں کا کمال۔ صدّیقوں کا کمال۔ شہیدوں کا کمال۔ صلحاء کا کمال۔ سونبی کا خاص کمال یہ ہے کہ خدا سے ایسا علم غیب پاوے جو بطور نشان کے ہو۔ اور صدیق کا کمال یہ ہے کہ صدق کے خزانہ پر ایسے کامل طور پر قبضہ کرے یعنی ایسے اکمل طور پر کتاب اللہ کی سچائیاں اُس کو معلوم ہو جائیں کہ وہ بوجہ خارق عادت ہونے کے نشان کی صورت پر ہوں۔ اور اُس صدیق کے صدق پر گواہی دیں اور شہید کا کمال یہ ہے کہ مصیبتوں اور دُکھوں اور ابتلاؤں کے وقت میں ایسی قوتِ ایمانی او رقوتِ اخلاقی او ر ثابت قدمی دکھلاوے کہ جو خارق عادت ہونے کی وجہ سے بطور نشان کے ہوجائے اور مرد صالح کا کمال یہ ہے کہ ایسا ہر ایک قسم کے فساد سے دُور ہو جائے اور مجسّم صلاح بن جائے کہ وہ کامل صلاحیت اس کی خارق عادت ہونے کی وجہ سے بطور نشان مانی جائے۔ سو یہ چاروں قسم کے کمال جو ہم پانچ وقت خدا تعالیٰ سے نماز میں مانگتے ہیں یہ دوسرے لفظوں میں ہم خدا تعالیٰ سے آسمانی نشان طلب کرتے ہیں اور جس میں یہ طلب نہیں اُس میں ایمان بھی نہیں۔ ہماری نماز کی حقیقت یہی طلب ہے جو ہم چار رنگوں میں پنج وقت خدا تعالیٰ سے چار نشان مانگتے ہیں اور اِس طرح پر زمین پر خدا تعالیٰ کی تقدیس چاہتے ہیں تا ہماری زندگی انکار اور شک اورغفلت کی زندگی ہو کر زمین کو پلید نہ کرے او ر ہر ایک شخص خدا تعالیٰ کی تقدیس تبھی کرسکتا ہے کہ جب وہ یہ چاروں قسم کے نشان خدا تعالیٰ سے مانگتا رہے۔ حضرت مسیح نے بھی مختصر لفظوں میں یہی سکھایا تھا۔ دیکھو متی باب ۸ آیت ۹۔
’’ پس تم اسی طرح دعا مانگو کہ اے ہمارے باپ جو آسمان پر ہے تیرے نام کی تقدیس ہو‘‘۔ والسلام۔
راقم
مرزا غلام احمد از قادیاں ضلع گورداسپور پنجاب ۵؍ نومبر ۱۸۹۹ ء