پورا ہو۔ یہ سچ ہے کہ میں اپنی طرف سے نہیں بلکہ اُس کی طرف سے کہتاہوں اور وہی ہے جو میرا مددگار ہوگا۔
بالآخر میں اِس بات کا بھی شکر کرتا ہوں کہ ایسے عریضہ کو پیش کرنے کے لئے میں بجز اِس سلطنت محسنہ کے اور کسی سلطنت کو ؔ وسیع الاخلاق نہیں پاتا اور گو اِس مُلک کے مولو ی ایک اور کفر کا فتویٰ بھی مجھ پر لگا دیں مگرمیں کہنے سے باز نہیں رہ سکتا کہ ایسے عرائض کے پیش کرنے کے لئے عالی حوصلہ عالی اخلاق صرف سلطنت انگریزی ہے۔ میں اِس سلطنت کے مقابل پر سلطنت روم کو بھی نہیں پاتا جو اِسلامی سلطنت کہلاتی ہے۔ اب میں اِس دعاپر ختم کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہماری محسنہ ملکہ معظمہ قیصرہ ہند کو عمر دراز کرکے ہر ایک اقبال سے بہرہ ور کرے اوروہ تمام دعائیں جو میں نے اپنے رسالہ ستار ۂ قیصرہ اور تحفۂ قیصریہ میں ملکہ موصوفہ کو دی ہیں قبول فرماوے اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ گورنمنٹ محسنہ اس کے جواب سے مجھے مشرف فرماوے گی۔ والدعا۔
عریضہء خاکسار
مرزا غلام احمد از قادیاں
المرقوم ۲۷؍ ستمبر ۱۸۹۹ ء