گھروؔ ں کی طرف رجوع کیا تو اس کی یہ تعبیر ہے کہ ایک قیدی قید سے رہائی پائے گا اور ظالموں کے ہاتھ سے اس کو مَخلصی حاصل ہوگی۔ طرز بیان سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا قیدی ہوگا کہ ایک شان اور عظمت رکھتا ہوگا۔ اب دیکھو یہ تعبیر کیسی معقولی طور پر حضرت مسیح علیہ السلام پر صادق آتی ہے اور فی الفور سمجھ آجاتا ہے کہ اسی اشارہ کے ظاہر کرنے کے لئے فوت شدہ را ستباز زندہ ہوکر شہر میں داخل ہوتے نظر آئے کہ تا اہلِ فراست معلوم کریں کہ حضرت مسیح صلیبی موت سے بچائے گئے۔
ایسا ہی اور بہت سے مقامات انجیلوں میں پائے جاتے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب کے ذریعہ سے نہیں مرے بلکہ مَخلصی پا کر کسی دوسرے ملک میں چلے گئے۔ لیکن میں خیال کرتا ہوں کہ جس قدر میں نے بیان کیا ہے وہ منصفوں کے سمجھنے کے لئے کافی ہے۔
ممکن ہے کہ بعض دلوں میں یہ اعتراض پیدا ہو کہ انجیلوں میں یہ بھی تو بار بار ذکر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت ہوگئے اور پھر زندہ ہوکر آسمان پر چلے گئے۔ ایسے اعتراضات کا جواب میں پہلے بطور اختصار دے چکا ہوں۔ اور اب بھی اس قدر بیان کردینا مناسب خیال کرتا ہوں کہ جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیبی واقعہ کے بعد حواریوں کو ملے اور گلیل تک سفر کیا اور روٹی کھائی اور کباب کھائے اور اپنے زخم دکھلائے اور ایک رات بمقام امّاؤس حواریوں کے ساتھ رہے اور خفیہ طور پر پلاطوس کے علاقہ سے بھاگے اور نبیوں کی سنّت کے موافق اس ملک سے ہجرت کی اور ڈرتے ہوئے سفر کیا تو یہ تمام واقعات اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ صلیب پر فوت نہیں ہوئے تھے اور فانی جسم کے تمام لوازم ان کے ساتھ تھے اور کوئی نئی تبدیلی ان میں پیدا نہیں ہوئی تھی اور آسمان پر چڑھنے کی کوئی عینی شہادت انجیل سے نہیں ملتی۔*اور اگر ایسی شہادت ہوتی بھی تب بھی لائق اعتبار نہ تھی۔ کیونکہ انجیل نویسوں کی
کوئی بیان نہیں کرتا کہ میں اس بات کا گواہ ہوں اور میری آنکھوں نے دیکھا ہے کہ وہ آسمان پر چڑھ گئے تھے۔منہ