اب ؔ یہ اس قسم کا معجزہ ہے کہ نتائج مذکورہ کا اعتراض اس پر وارد نہیں ہوتا۔ کیونکہ سکھ کہہ سکتے ہیں کہ کیا ہاتھی کی کوئی بولنے والی زبان ہے کہ تا باوا نانک کی تصدیق یا تکذیب کرتا۔ غرض عوام تو اپنی چھوٹی سی عقل کی وجہ سے ایسے معجزات پر بہت خوش ہوتے ہیں مگر عقلمند غیر قوموں کے اعتراضوں کا نشانہ بن کر کوفتہ خاطر ہوتے ہیں اور جس مجلس میں ایسی بیہودہ کہانیاں کی جائیں وہ بہت شرمندہ ہوتے ہیں۔ اب چونکہ ہم کو حضرت مسیح علیہ السلام سے ایسا ہی محبت اور اخلاص کا تعلق ہے جیسا کہ عیسائیوں کو تعلق ہے بلکہ ہم کو بہت بڑھ کر تعلق ہے کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کس کی تعریف کرتے ہیں مگر ہم جانتے ہیں کہ ہم کس کی تعریف کرتے ہیں کیونکہ ہم نے ان کو دیکھا ہے لہٰذا اب ہم اس عقیدہ کی اصل حقیقت کو کھولتے ہیں کہ جو انجیلوں میں لکھا ہے کہ صلیب کے واقعہ کے وقت تمام راستباز فوت شدہ زندہ ہوکر شہر میں آگئے تھے۔ پس واضح ہو کہ یہ ایک کشفی امر تھا جو صلیب کے واقعہ کے بعد بعض پاک دل لوگوں نے خواب کی طرح دیکھا تھا کہ گویا مقدس مردے زندہ ہوکر شہر میں آگئے ہیں۔ اور لوگوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور جیسا کہ خوابوں کی تعبیر خدا کی پاک کتابوں میں کی گئی ہے۔ مثلاً جیسا کہ حضرت یوسف کی خواب کی تعبیر کی گئی۔ ایسا ہی اس خواب کی بھی ایک تعبیر تھی۔ اور وہ یہ تعبیر تھی کہ مسیح صلیب پر نہیں مرا اور خدا نے اس کو صلیب کی موت سے نجات دے دی۔ اور اگر ہم سے یہ سوال کیا جائے کہ یہ تعبیر تمہیں کہاں سے معلوم ہوئی تو اس کا یہ جواب ہے کہ فن تعبیر کے اماموں نے ایسا ہی لکھا ہے اور تمام معبرین نے اپنے تجربہ سے اس پر گواہی دی ہے۔ چنانچہ ہم قدیم زمانہ کے ایک امام فن تعبیر یعنی صاحب کتاب تعطیر الانام کی تعبیر کو اس کی اصل عبارت کے ساتھ ذیل میں لکھتے ہیں۔ اور وہ یہ ہے من رأی أنّ الموتٰی وثبوا من قبورھم و رجعوا الٰی دورھم فانہ یطلق من فی السجن۔ دیکھو کتاب تعطیر الانام فی تعبیر المنام مصنفہ قطب الزمان شیخ عبد الغنی النابلسی صفحہ ۲۸۹۔ ترجمہ: اگر کوئی یہ خواب دیکھے یا کشفی طور پر مشاہدہ کرے کہ مردے قبروں میں سے نکل آئے اور اپنے