متوجہ ہوں کیونکہ مجھے دکھلایا گیا ہے کہ آپ کی زندگی کے دن تھوڑے ہیں ۔ انہوں نے عام گھر والوں کو اِس سے اطلاع دے دی اور پھر چند ہفتہ میں ہی اِس جہان فانی سے گذرے۔ اِس واقعہ کے گواہ بھی کئی مرد اور عورتیں موجود ہیں جو حلفاً بیان کرسکتے ہیں بلکہ جس وقت میرا بھائی فوت ہوا تو میرا امرتسر کا خط اُن کے صندوق میں سے نکلا۔ ۱۹ ایک مرتبہ میرے ایک مخلص دوست جو ہمارے سلسلہ کے نہایت درجہ حامی اور صادق الاخلاص ہیں۔ جنہوں نے اپنے نفس پر فرض کر رکھا ہے کہ ایک سو روپیہ ماہواری اِس سلسلہ کی امداد کے لئے بھیجا کریں جن کا نام سیٹھ عبد الرحمن حاجی اللہ رکھا ہے جو تاجر مدراس ہیں۔ کسی اپنی تشویش میں دعا کے خواستگار ہوئے اور ان کی نسبت مجھے یہ الہام ہوا۔ قادر ہے وہ بارگہ ٹوٹا کام بناوے بنا بنایا تو ڑ دے کوئی اُس کا بھید نہ پاوے یہ ایک بشارت اُن کا غم دور کرنے کے بارے میں تھی۔ چنانچہ چند ہفتہ کے بعد ہی خدا تعالیٰ نے ان کو اُس پیش آمدہ غم سے رہائی بخشی۔ سیٹھ صاحب بفضلہ تعالیٰ مدراس میں زندہ موجود ہیں وہ اِس واقعہ کی تصدیق کرسکتے ہیں۔ لیکن حلف نمونہ نمبر ۲ کے مطابق ہوگی۔ ۲۰ ایک لُدھیانہ کے متعصب مگر سخت جاہل سعد اللہ نام نے جو ہندوؤں میں سے نیامسلمان ہوا تھا میرے پر یہ اعتراض کیا تھا کہ امرتسر کے مباحثہ میں جو عیسائیوں کے ساتھ ۱۸۹۳ ؁ء میں ہوا تھا اِس کا نتیجہ بعد میں یہ ہوا کہ اخویم حبّی فی اللّٰہ مولوی حکیم نور دین صاحب کا شیرخوار لڑکا بقضاء الٰہی فوت ہوگیا۔ اِس قابلِ شرم اعتراض سے اصل غرض اُس بے حیا کمینہ طبع کی جو اکابر اسلام کے بچوں کے مرنے سے خوش ہوتا ہے یہ تھی کہ دین اسلام جھوٹا ہے او ر عیسائی مذہب سچا۔ اِس لئے میں نے دعا کی کہ خدا اِس