دل میں خدا تعالیٰ نے یہ الہام کیا کہ دریا کے پانی میں جس کے ساتھ ریت بھی ہو ہاتھ ڈال اور یہ کلمات طیبہ پڑھ اور اپنے سینہ اور پشت سینہ اور دونوں ہاتھوں اور منہ پر اس کو پھیر کہ اِس سے تو شفا پائے گا۔ چنانچہ جلدی سے دریا کا پانی مع ریت منگوایا گیا او رمیں نے اسی طرح عمل کرنا ؔ شروع کیا جیسا کہ مجھے تعلیم دی تھی۔ اور اس وقت حالت یہ تھی کہ میرے ایک ایک بال سے آگ نکلتی تھی اور تمام بدن میں دردناک جلن تھی اور بے اختیار طبیعت اس بات کی طرف مائل تھی کہ اگر موت بھی ہو تو بہتر تا اِس حالت سے نجات ہو ۔مگر جب وہ عمل شروع کیا تو مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ہر ایک دفعہ ان کلمات طیبہ کے پڑھنے اور پانی کو بدن پر پھیرنے سے میں محسوس کرتا تھا کہ وہ آگ اندر سے نکلتی جاتی ہے اور بجائے اس کے ٹھنڈک اور آرام پیدا ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ابھی اس پیالہ کا پانی ختم نہ ہوا تھا کہ میں نے دیکھا کہ بیماری بکلّی مجھے چھوڑ گئی۔ اور میں سولہ دن کے بعد رات کو تندرستی کے خواب سے سویا ۔ جب صبح ہوئی تو مجھے یہ الہام ہوا وان کنتم فی ریب ممّا نزّلنا علٰی عبدنا فأتوا بشفاء من مثلہ۔ یعنی اگر تمہیں اِس نشان میں شک ہو جو شفا دے کر ہم نے دکھلایا تو تم اس کی نظیر کوئی اور شفا پیش کرو۔ یہ واقعہ ہے جس کی پچاس آدمی سے زیادہ لوگوں کو خبر ہے۔ بعض ان میں سے مرگئے اور بعض ابھی تک زندہ ہیں جو حلفاً بیان کرسکتے ہیں۔ لیکن حلف اسی قسم کی ہوگی جس کا نمونہ نمبر دو۲ میں مفصل ہے۔
۱۶ اعظم بیگ نام ایک شخص لاہور کا باشندہ تھا جوا کسٹرا اسسٹنٹ تھا۔ اُس نے اپنی حیلہ سازی سے ہمارے بعض بیدخل شرکا ء کو جو ملکیت قادیاں کے کاغذات سرکاری کے رُو سے حصہ دار تھے مگر ملکیت سے بالکل بے تعلق تھے اور مقدمات قادیاں کے ہزارہا روپیہ کے خرچ و حرج میں کسی کام میں شریک نہیں ہوئے تھے اُٹھایااور