اُن کی خدمت میں اور اُن کے بھائی صاحب کی خدمت میں بھیجے گئے تھے۔ *اور انجام کار ایسا ہی ہوا جیسا کہ کہا گیا تھا۔ نواب صاحب موصوف خود حلفاً بیان کرسکتے ہیں کہ یہ واقعہ سچا ہے۔ لیکن چونکہ میں جانتا ہوں کہ انسان بعض مصالح کے سبب سے کبھی کبھی سچی گواہی کے ادا کرنے پر دلیری نہیں کرسکتا۔ لہٰذا میں اُن کی خدمت میں اور سب گواہوں کی خدمت میں بادب التماس کرتا ہوں کہ اگر وہ ان پیشگوئیوں کے علم سے جن میں ان کو گواہ بنایا گیا ہے انکار کریں تو اپنے عزیز فرزندوں کے نام پرخدا تعالیٰ کی قسم کھالیں کہ یہ پیشگوئی جھوٹی ہے۔ اور قبل اِس کے کہ نواب صاحب میری گواہی دیں۔ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ یہ تمام واقعہ حق ہے۔ ولعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین اور یہ پیشگوئی آج سے بیس برس پہلے کتاب براہین احمدیہ میں درج ہوکر لاکھوں انسانوں میں مشتہر ہوچکی ہے۔ دیکھو براہین احمدیہ صفحہ۲۵۲۔
۲ ایک آریہ شرمپت نام قوم کھتری جس کا نمبر اوّل میں ذکر آیا ہے جو کبھی کبھی میرے پاس آتا تھا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کا منکر اور سخت معاندِ اسلام تھا۔ پھر ایسا اتفاق ہوا کہ ناگہاں اس کا بھائی بشمبر داس نام ایک فوجداری الزام کے نیچے آکر ایک برس کی قید کا سزا یاب ہوگیا اور اُس کے ہمراہ ایک اور بھی قید ہواجس کا نام خوشحال تھا اور اُس کو ڈیڑھ سال کی سزا ہوئی۔ اِس مصیبت کے وقت شرمپت نے مجھ سے اپنے بھائی بشمبر داس کی نسبت دعا چاہی اور یہ بھی کہا کہ اس سے میں امتحان
* کوئی عقلمند اس بات کو مان نہیں سکتا کہ ایک شہرت یافتہ کتاب کی پیشگوئی جس کو بیس برس گذر چکے اگر وہ خلاف واقعہ اور افترا ہو تو اتنی مدت تک وہ شخص خاموش رہ سکے جس کی نسبت یہ پیشگوئی ہے۔ بالخصوص اس حالت میں کہ جب کہ بلا توقف وہ کتاب اس کو دے دی گئی ہو۔ منہ