ضمیمہ ؔ تریاق القلوب نمبر ۲ ہم اِس ضمیمہ میں ایک مختصر فہرست اپنے اُن نشانوں کی جو آج تک یعنی ۲۰ ؍ اگست ۱۸۹۹ ؁ء تک ظہور میں آچکے ہیں حق کے طالبوں کی ہدایت کے لئے ذیل میں لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے شمار تفصیل نشان ۱ نواب سردار محمد حیات خاں صاحب ایک وقت معطل ہوگئے تھے اور گورنمنٹ سے اُن پر کئی الزام قائم ہوکر ایک سخت اور خطرناک مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔ ان مشکلات کے وقت ان کی نسبت میرے بھائی مرزا غلام قاد ر مرحوم نے مجھ سے سفارش کی کہ اُن کے لئے دعا کی جائے۔ دعا کے بعد اُن کے بری ہونے کی بشارت خواب میں مجھ کو ملی اور میں نے اُن کو خواب میں عدالت کی کرسی پر بیٹھے ہوئے دیکھا اور میں نے کہا کہ تم معطل تھے۔ اُنہوں نے جواب دیا کہ ہاں اُس جہان میں مگر اِس جہان میں نہیں۔ اور ایک مرتبہ خواب میں مَیں نے اُن کو کہا کہ تم کچھ خوف مت کرو خدا تعالیٰ ہر ایک چیز پر قادر ہے وہ تم کو اِس بلا سے نجات دے گا اور بری کردے گا۔ اِس پیشگوئی کے گواہ بہت سے ہندو مسلمان ہیں۔ اور اُن میں سے ایک ہندو لالہ شرمپت بھی ہے جو اسی گاؤں میں رہتا ہے اورخود نواب سردار محمد حیات خاں صاحب گواہ ہیں کیونکہ میرے بھائی نے اِس خواب سے اُن کو اطلاع دے دی تھی اور نیز فضل احمد میرے لڑکے نے بھی اُن کو خبردی تھی۔ اور نیز دو نسخے براہین احمدیہ بھی جن میں اِس پیشگوئی کے پورا ہونے کا ذکر ہے الیس اللہ بکاف عبدہ