یہ قابل شرم جھوٹ بولا کرتے تھے کہ گویا آنجناب سے کوئی پیشگوئی یا معجزہ ظہور میں نہیں آیا۔ اور اب یہ زمانہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے علاوہ ان ہزارہا معجزات کے جو ہمارے سرور و مولٰی شفیع المذنبینصلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن شریف اور احادیث میں اِس کثرت سے مذکور ہیں جو اعلیٰ درجہ کے تواتر پر ہیں ۔ تازہ بتازہ صدہا نشان ایسے ظاہر فرمائے ہیں کہ کسی مخالف اور منکر کو ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ ہم نہایت نرمی اور انکسار سے ہر ایک عیسائی صاحب او ر دوسرے مخالفوں کو کہتے رہے ہیں اور اب بھی کہتے ہیں کہ درحقیقت یہ بات سچ ہے کہ ہرایک مذہب جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوکر اپنی سچائی پر قائم ہوتا ہے اس کے لئے ضرور ہے کہ ہمیشہ اس میں ایسے انسان پیدا ہوتے رہیں کہ جو اپنے پیشوا او رہادی اور رسول کے نائب ہوکر یہ ثابت کریں کہ وہ نبی اپنی روحانی برکات کے لحاظ سے زندہ ہے فوت نہیں ہوا۔ کیونکہ ضرور ہے کہ وہ نبی جس کی پیروی کی جائے جس کو شفیع اور منجّی سمجھا جائے وہ اپنے روحانی برکات کے لحاظ سے ہمیشہ زندہ ہو اور عزت اور رفعت اور جلال کے آسمان پر اپنے چمکتے ہوئے چہرہ کے ساتھ ایسا بدیہی طور پر مقیم ہو۔ اور خدائے ازلی ابدی حیّ قیوم ذو الاقتدار کے دائیں طرف بیٹھنا اُس کا ایسے پُرزور الٰہی نوروں سے ثابت ہوکہ اس سے کامل محبت رکھنا اور اس کی کامل پیروی کرنا لازمی طور پر اس نتیجہ کو پیدا کرتا ہو کہ پیروی کرنے والا رُوح القدس اور آسمانی برکات کا انعام پائے اور اپنے پیارے نبی کے نوروں سے نور حاصل کرکے اپنے زمانہ کی تاریکی کو دُور کرے اور مستعد لوگوں کو خدا کی ہستی پر وہ پختہ اور کامل اور درخشاں اور تاباں یقین بخشے جس سے گناہ کی تمام خواہشیں اور سفلی زندگی کے تمام جذبات جل جاتے ہیں۔ یہی ثبوت اِس بات کا ہے کہ وہ نبی زندہ اور آسمان پرہے۔ سوہم اپنے خدائے پاک ذوالجلال کا کیا شکر کریں کہ اُس نے اپنے پیارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور پیروی کی توفیق دے کر اور پھر اس محبت اور پیروی کے روحانی فیضوں سے جو سچی ؔ تقویٰ اور سچے آسمانی نشان ہیں کامل حصہ عطا فرماکر ہم پر ثابت کردیا کہ وہ ہمارا پیارا برگزیدہ نبی فوت نہیں ہوا