ارادۂ ازلی ایں زمان وقت آورد تو چیستی کہ زِ تو ردِّ ایں قضا باشد مَرو بہ بے خردی نزدِ مابیا ونشیں کہ ظل اہلِ صفا موجبِ شفا باشد مقیم حلقۂ ابرار باش روزے چند مگر عنایتِ قادر گرہ کشا باشد زہے خجستہ زمانے کہ سوئے ما آئی زہے نصیب تو گر شوق و التجا باشد چہ ؔ جورہا کہ توبرنفسِ خود کنی ہیہات ہزار حیف بریں فطنت و ذکا باشد چہ حاجتست کہ رنجے کشی بتالیفات کہ امتحانِ دعاگو ہم از دعا باشد بہ رُوئے یار کہ ہرگز نہ رُتبتے خواہم مگر اعانتِ اسلام مدّعا باشد سیاہ باد رخِ بختِ من اگر بہ دلم دگر غرض بجز از یارِ آشنا باشد رہِ خلاص کجا باشد آں سیہ دل را کہ باچنیں دلِ من درپئے جفا باشد چو سیل دیدۂ ما ہیچ سیل و طوفاں نیست بترس زیں کہ چنیں سیل پیشِ پا باشد زآہِ زمرۂ ابدال بایدت ترسید علی الخصوص اگر آہِ میرزا باشد جیسا کہ ہم نے اس فارسی قصیدہ میں جو اُوپر لکھا گیا ہے یہ بتلایا ہے کہ خدا کے کامل مامورین کی علامتوں میں سے ایک یہ علامت ہے کہ اُن سے آسمانی نشان ظاہر ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ہم اسجگہ ہزار ہزار شکر کے ساتھ لکھتے ہیں کہ وہ تمام علامتیں اس بندۂ حضرت احدیّت میں پوری ہوئیں۔ اس زمانہ میں پادریوں کا متعصب فرقہ جو سراسر حق پوشی کی راہ سے کہا کرتا تھا کہ گویا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معجزہ ظہور میں نہیں آیا اُن کو خدا تعالیٰ نے سخت شرمندہ کرنے والا جواب دیا اور کھلے کھلے نشان اِس اپنے بندہ کی تائید میں ظاہر فرمائے۔ ایک وہ زمانہ تھا کہ انجیل کے واعظ بازاروں اور گلیوں اورکوچوں میں نہایت دریدہ دہانی سے اور سراسر افترا سے ہمارے سیّد و مولیٰ خاتم الانبیاء اور افضل الرسل والا صفیاء اور سیّد المعصومین والا تقیاء حضرت محبوبِ جناب احدیت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت