پسؔ جبکہ اس گورنمنٹ محسنہ کی نسبت رعایا کے دِل نہایت صاف ہیں تو اِس صورت میں اگر پادریوں کی سخت گوئی سے کسی نقضِ امن کا اندیشہ ہوتو شاید اسی قدر ہو کہ کسی موقعہ پر ایک گروہ دوسرے گروہ سے دنگہ فساد کرے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ تجربہ مدّت دراز کا ہم پر ثابت کرتا ہے کہ آج تک یہ دنگہ فساد بھی ایک قوم کا دُوسری قوم سے وقوع میں نہیں آیا۔حالانکہ اس گذشتہ ساٹھ سال میں ہم لوگوں نے دیسی پادری صاحبوں کی وہ سخت تحریریں پڑھی ہیں اور وہ دلآزار کلمے ہماری نظر سے گذرے ہیں جن سے دِل ٹکڑے ٹکڑے ہوسکتا ہے اور باایں ہمہ مسلمانوں کی طرف سے کوئی طیش و اشتعال ظاہر نہیں ہوا۔ اِس کا یہ سبب ہے کہ مسلمانوں کے علماء ردّ لکھنے کی طرف متوجہ ہوگئے۔ پس جس جوش کو بعض جاہلوں نے وحشیانہ طور پر ظاہر کرنا تھا وہ مہذبانہ طور پر قلم اور کاغذ کے ذریعہ سے ظاہر کیا گیا اور باایں ہمہ ایک گروہ کثیر مسلمانوں کا ناخواندہ ہے جوایسی تحریرات سے کچھ بھی خبر نہیں رکھتا۔ پس یہی موجب ہے کہ یہ تمام زہریلی تحریریں کسی فساد کی موجب نہ ہوسکیں اور یقین کیا جاتا ہے کہ آئندہ بھی موجب نہ ہوں کیونکہ مسلمان اب عرصہ ساٹھ سال سے اِس عادت پر پختہ ہوگئے ہیں کہ تحریروں کا جواب تحریروں سے دیا جائے اور یہ حکمت عملی امن قائم رکھنے کے لئے نہایت عمدہ اور مؤثر ہے کہ آئندہ بھی اسی عادت پر پختہ رہیں اور دُوسرے طریقوں کی طرف دل کو نہ پھیریں۔
ماسوا اس کے اِس طریق میں علمی ترقی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اِس برٹش انڈیا میں ایک کم استعداد اور کم علم مباحث بھی جو پادریوں کے ساتھ سلسلہ بحث جاری رکھتا ہے اِس قدر اپنے مباحثہ میں معلومات پیدا کرلیتا ہے کہ اگر قسطنطنیہ میں جاکر ایک نامی فاضل کو وہ باتیں پوچھی جائیں جو اس شخص کو یاد ہوتی ہیں تو وہ ہرگز بتلا نہیں سکے گا۔ کیونکہ اُس مُلک میں ایسے مباحثات نہیں کئے جاتے اِس لئے وہ لوگ اِس کوچہ سے واقف نہیں ہوتے اور اکثر سادہ لوح اور بیخبر ہوتے ہیں۔ اب ہم اغراض مذکورہ بالا کے لئے ایک عربی رسالہ جس کا ترجمہ فارسی میں ہر ایک سطر کے نیچے لکھا گیا ہے۔ اِس رسالے کے بعد لکھتے ہیں کیونکہ بعض دور دراز ملکوں کے لوگ اُردو پڑھ نہیں سکتے۔ جیسا کہ بلاد عرب کے رہنے والے یا ایران و بخارا و کابل وغیرہ کے باشندے۔ اس لئے یہی قرین مصلحت معلوم ہوا کہ اِس عظیم الشان کام کو مشتہر کرنے کے لئے عربی اور فارسی میں بھی کچھ تحریر کیا جائے تایہ لوگ بھی دولت اعانت دین سے محروم نہ رہیں اور خداتعالیٰ سے ہم توفیق چاہتے ہیں کہ اِس رسالہ عربی اور فارسی کو بھی ہمارے ہاتھوں سے پُورا کرے۔ آمین