کیؔ کتابیں پادری صاحبوں نے تالیف کرکے اس ملک میں شائع کی ہیں اور اسی قسم کے مضمون ان کے اخباروں میں بھی ہمیشہ شائع ہوتے رہتے ہیں اور یہ کارروائی نہ ایک دو روز کی بلکہ ساٹھ سال کی ہے مگر پھر بھی وہ تحریریں گو کیسی ہی فتنہ انگیز ہوں لیکن یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اسباب پَیدا ہوگئے ہیں کہ جو لوگ وحشیانہ طور پر ان تحریروں سے مشتعل ہوسکتے ہیں وہ اکثر ناخواندہ ہیں اور جو لوگ ان تحریروں کو پڑھتے اور دیکھتے ہیں وہ اکثر مہذب ہیں جو تحریر کا تحریر سے ہی جواب دینا چاہتے ہیں۔ یہ وہ بات ہے جو صرف قیاسی نہیں بلکہ ساٹھ سال کے متواتر تجربہ سے ثابت ہوچکی ہے اور اگر ایسی تحریروں سے کوئی مفسدہ برپا ہوسکتاتو سب سے پہلے پادری عمادالدین کی تحریریں یہ زہریلا اثر اپنے اندر رکھتی تھیں جن کی نسبت ایک محقق انگریز نے بھی شہادت دی ہے کہ ’’اگر ۱۸۵۷ء کا غدر پھر ہونا ممکن ہے تو اس کا سبب پادری عمادالدین کی تحریریں ہوں گی‘‘ مگر مَیں کہتا ہوں کہ یہ خیال بھی خام ہے کیونکہ باوجودیکہ عمادالدین کی کتابوں کو شائع ہوئے قریباً تیس برس کا عرصہ گذر گیا مگر مسلمانوں کی طرف سے کوئی مفسدانہ حرکت صادر نہیں ہوئی اور کیونکر صادر ہو تمام مسلمان کیا ادنیٰ اور کیا اعلیٰ خوب سمجھتے ہیں کہ گورنمنٹ کو اِن تحریرات سے کچھ تعلق نہیں۔ ہر ایک شخص مذہبی آزادی کی وجہ سے اپنے اندرونی خواص دکھلارہا ہے اور گورنمنٹ نے اپنی رعایا پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ بغیر کسی کی طرفداری کے نہایت عدل اور انصاف اور خسروانہ رحم اور شفقت سے برٹش انڈیا میں سلطنت کررہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب مسلمان کسی غیر مذہب کی ایسی سخت تحریر پاتے ہیں یا اس قسم کا رسالۂ دل آزار اُن کی نظر سے گذرتا ہے تو وہ ایسے رسالہ کو محض کسی ایک شخص کے ذاتی خبث اور عناد یا حمق اور جہل مرکب کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور معاذ اللہ کسی کو ہرگز یہ خیال نہیں آتا کہ گورنمنٹ کا اس میں کُچھ دخل ہے۔ پنجاب کے مسلمان برابر ساٹھ سال سے اِس بات کا تجربہ کررہے ہیں کہ اِس گورنمنٹ عالیہ کے اصول نہایت درجہ کے انصاف پرور اور عدل گستری پر مبنی ہیں اور ہرگز ممکن نہیں کہ ایک سیکنڈ کے لئے بھی اُن کے دِل میں گذر سکے کہ دیسی پادری اپنی سخت گوئی میں گورنمنٹ کی نظر میں معافی کے لائق ہیں۔