اندیشہ ہے کہ اس کے مضامین سے نقض امن نہ ہو جاوے اس کی اشاعت روک دی جاوے اب مرزا صاحب قادیانی نے اس کے مخالف میموریل بھیجا ہے جس کا منشا یہ ہے کہ اس کتاب کو حکماً نہ روکا جاوے‘‘۔ اس اعتراض سے ایڈیٹر صاحب کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ انجمن حمایت اسلام لاہور نے تو اسلام اور مسلمانوں کے لئے نہایت عمدہ کارروائی کی تھی کہ نقض امن کی حجت پیش کر کے گورنمنٹ سے درخواست کی تھی کہ اس کتاب کی اشاعت روک دی جائے مگراس شخص نے یعنی اِس راقم نے محض بغض اور حسد سے اس کارروائی کی مخالفت کی اور اس طرح پر اسلام کو صدمہ پہنچایا۔ گویا اُن بزرگوں نے تو اسلام کی تائید کرنی چاہی مگر اس راقم نے محض نفسانی بغض اور حسد کے جوش سے اسلامی کارروائی کو عمداً حرج پہنچانے کے لئے کوشش کی۔
اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ میں نے اپنے میموریل میں جو ۱۴؍ مئی ۱۸۹۸ ء کو اردو زبان
اس سے خط و کتابت کی وہ خود اپنے وحشیانہ جوش سے قادیاں میں میرے پاس آیا۔ اور اس بات کے تمام ہندو اس جگہ کے گواہ ہیں کہ وہ پچیس دن کے قریب قادیاں میں رہا اور سخت گوئی اور بدزبانی سے ایک دن بھی اپنے تئیں روک نہ سکا۔ بازار میں مسلمانوں کے گذر کی جگہ میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا رہا۔ اور مسلمانوں کو جوش دینے والے الفاظ بولتا رہا۔ میں نے اندیشہ نقض امن سے مسلمانوں کو منع کر دیا تھا کہ اس کی تقریروں کے وقت کوئی بازار میں کھڑا نہ ہو اور کوئی مقابلہ کے لئے مستعد نہ ہو۔ اس لئے باوجود اس کے کہ وہ فساد کے لئے چند اوباشوں کو ساتھ ملا کر ہر روز ہنگامہ کے لئے طیّار رہتا تھا مگر مسلمانوں نے میری متواتر نصیحتوں کی وجہ سے اپنے جوشوں کو دبا لیا۔ ان دنوں میں کئی باغیرت مسلمان میرے پاس آئے کہ یہ شخص برملا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالتا ہے۔ اور میں نے دیکھا کہ وہ لوگ جوش میں ہیں تب میں نے نرمی سے منع کیا کہ ایک مسافر ہے بحث کرنے کے لئے آیا ہے صبر کرنا چاہئیے۔ میرے بار بار کے روکنے سے وہ لوگ اپنے جوشوں سے باز آئے۔ اور لیکھرام نے یہ طریق اختیار کیا کہ ہر روز میرے مکان پر آتا