تکؔ چلے جاتے ہیں اور دلوں پر ایک عجیب اثر ڈالتے ہیں اور صدہا نادانوں کے ان سے وسوسے دور ہو جاتے ہیں۔ یہ مذہبی آزادی ایک ایسی پیاری چیز ہے کہ اس کی خبر پاکر بہت سے اور ملک بھی چاہتے ہیں کہ اس مبارک گورنمنٹ کا ہم تک قدم پہنچے۔ غرض اس مبارک گورنمنٹ کو اپنا صدق اور اخلاص دکھلاؤ۔ وقتوں پر اس کے کام آؤ۔ چاہئیے کہ تمہارا دل بالکل صاف اور اخلاص سے بھرا ہوا ہو اور پھر جب تم یہ سب کچھ کر چکے تو باوجود اس ارادت اور اخلاص کے کچھ مضائقہ نہیں کہ نرمی اور ملائمت سے اپنے دین کے اصولوں کی تائید کی جائے ایسے کاموں میں باریک اصولوں کے لحاظ سے گورنمنٹ کے اقبال اور دولت کی خیر خواہی ہے کیونکہ جس طرح اچھے دوکاندار کا نام سن کر اسی طرف خریدار دوڑتے ہیں اسی طرح جس گورنمنٹ کے ایسے بے تعصب اور آزادانہ اصول ہوں وہ گورنمنٹ خواہ نخواہ پیاری اور ہردلعزیز معلوم ہوتی ہے اور بہت سے غیر ملکوں کے لوگ حسرت کرتے ہیں کہ کاش ہم بھی اس کے ماتحت ہوتے۔ پس کیا آپ لوگ چاہتے نہیں کہ اس محسن گورنمنٹ کا ان تمام تعریفوں کے ساتھ دنیا میں نام پھیلے اور اس کی محبت دور دور تک دلوں میں جاگزین ہو۔ دیکھو سرسید احمد خاں صاحب بالقابہ کس قدر اس محسن گورنمنٹ کے خیرخواہ تھے اور کس قدر گورنمنٹ عالیہ کے منشاء سے بھی واقف تھے اور کس قدر وہ اس بات کو چاہتے تھے کہ ایسے امور سے دور رہیں جو گورنمنٹ کی منشاء کے برخلاف ہیں باایں ہمہ وہ ہمیشہ مذہبی امور میں بھی لگے رہے اور نہ صرف پادریوں کے اعتراضات کے جواب دئیے بلکہ الہ آباد کے ایک لاٹ صاحب کی کتاب کا بھی انہوں نے ردّ لکھا جو بڑا نازک کام تھا اور ہنٹر کے الزامات کا بھی جواب دیا اور پھر موت کے دنوں کے قریب اس کتاب امہات المومنین کے کسی قدر حصے کا جواب لکھ گئے جو علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ پریس میں رسالہ جلد۶ ؍اپریل ۱۸۹۸ ؁ء میں چھپ بھی گیا ہے۔ ہاں چونکہ وہ دانشمند اور حقیقت شناس تھے اس لئے انہوں نے اپنی تمام عمر میں ایسا کوئی فضول میموریل کبھی گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں نہیں بھیجا جیسا کہ