فخرؔ اسلام ہیں اس خدائے عزّوجلّ کی قسم دیتا ہوں جس کی قسم کو کبھی انبیاء علیہم السلام نے بھی رد نہیں کیا کہ اپنی رائے سے جو سراسر دینی ہمدردی پر مشتمل ہو مجھے ضرور ممنون فرمائیں گو کم فرصتی کی وجہ سے دو چار سطر ہی لکھ سکیں لیکن اس تمام مضمون کو پڑھ کر تحریر فرماویں۔ میں امید رکھتا ہوں کہ جس قدر اسلام کے سچے ہمدرد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت رکھنے والے ہیں وہ ایسی رائے کے لکھنے سے جس میں قوم کی بھلائی اور ہزارہا فتنوں سے نجات ہے دریغ نہیں فرمائیں گے۔ لیکن یاد رہے کہ اس رائے میں تین۳ امر کی تشریح ضرور چاہئیے۔ (۱) اوّل یہ کہ وہ اپنی دانست میں کس کو اس کام کے لئے منتخب کرتے ہیں۔ اور اس بزرگ کا نام کیا ہے اور کہاں کے رہنے والے ہیں۔ (۲) دوم یہ کہ وہ خود اس عظیم الشان کام کے انجام دینے کے لئے کس قدر مدد دینے کو طیّار ہیں۔ (۳) سوم یہ کہ یہ رقم کثیر جو اس کام کے لئے جمع ہوگی وہ کہاں اور کس جگہ مد امانت میں رکھی جائے گی اور وقتاً فوقتاً کس کی اجازت سے خرچ ہوگی۔ یہ تین امر ضروری التفصیل ہیں۔
اس جگہ ایک اور امر قابل ذکر ہے اور وہ یہ کہ شاید بعض صاحبوں کے دلوں میں یہ خیال پیداہو کہ ممکن ہے کہ اس کام میں دخل دینا گورنمنٹ عالیہ کے منشاء کے مخالف ہو تو میں ان کو یقین دلاتا ہوں کہ ہماری گورنمنٹ محسنہ جو ہماری جان اور مال کی حفاظت کر رہی ہے اس نے پہلے سے اشتہار دے رکھا ہے کہ وہ کسی کے دینی امور اور دینی تدابیر میں مداخلت نہیں کرے گی جب تک کوئی ایسا کاروبار نہ ہو جس سے بغاوت کی بدبو آوے۔ ہماری محسن گورنمنٹ برطانیہ کی یہی ایک قابل تعریف خصلت ہے جس کے ساتھ ہم تمام دنیا کے مقابل پر فخر کر سکتے ہیں- بیشک ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اس گورنمنٹ محسنہ کے سچے دل سے خیر خواہ ہوں اور ضرورت کے وقت جان فدا کرنے کو بھی طیّار ہوں۔ لیکن ہم اس طرح پر بھی غیر قوموں اور غیر ملکوں میں اپنی محسن گورنمنٹ کی نیک نامی پھیلانی چاہتے ہیں کہ کس طرح اس عادل گورنمنٹ نے دینی امور میں ہمیں پوری آزادی دی ہے۔ عملی نمونے ہزاروں کوسوں