ایسے لوگ اُس کی نظر میں کون سے ہیں۔ بہرحال قرین مصلحت یہی معلوم ہوتا ہے کہ ؔ اس مشکل کام میں امراء وقت اور دوسرے تمام تاجروں اور رئیسوں اور دولت مندوں اور اہل الرائے کو مخاطب کیا جائے اور پھر دیکھا جائے کہ اس ہمدردی کے میدان میں کون کون نکلتا ہے اور کون کون اعراض کرتا ہے۔ لیکن کیا ہی قابل تعریف وہ لوگ ہیں جو اس وقت اس کام کے لئے خداتعالیٰ سے توفیق پائیں گے۔ خدا ان کے ساتھ ہو اور اپنے خاص رحم کے سایہ میں ان کو رکھے۔
یہ مضمون جن جن بزرگوں کی خدمت میں پہنچے ان کا کام یہ ہوگا کہ اوّل اس مضمون کو غور سے پڑھیں اور پھر براہ مہربانی مجھے اطلاع بخشیں کہ وہ اس کام کے انجام کے لئے کیا تجویز کرتے ہیں اور کس کو اس خدمت کے لئے پسند کرتے ہیں۔ کام یہی ہے کہ مخالفوں کی کل کتابوں سے اعتراضات جمع کر کے ان کا جواب دیا جائے۔ اور پھر وہ کتابیں پچاس ہزار کے قریب چھپوا کر ملک میں شائع کی جائیں اور اس طرح پر موجودہ اسلامی ذریّت کو سم قاتل سے بچا لیا جائے۔ یہ تمام کام پچاس ہزار روپیہ کے خرچ سے بخوبی ہو سکتا ہے اور اگر ایسی کتابیں کم سے کم پچاس ہزار یا ساٹھ ہزار تک دنیا میں شائع کی جائیں تو یہ سمجھو کہ ہم نے تمام ساختہ پرداختہ پادریوں اور دوسرے مخالفوں کا کالعدم کردیا۔ لیکن چونکہ یہ مالی معاملہ ہے اس لئے اس میں اوّل سے خوب پرتال اور تفتیش ہونی چاہئیے کہ اس کام کے لائق کون لوگ ہیں؟ اور کس کی تالیف دنیا کے دلوں کو اسلام کی طرف جھکا سکتی ہے؟ اور کون ایسا شخص ہے جس کا حسن بیان اور قوت استدلال اور طرز ثبوت عام فہم اور تسلی بخش ہے اور کس کی تقریر ہے جو تمام اعتراضات کو درہم برہم کر کے اُن کا نشان مٹا سکتی ہے۔ اسی خیال سے میں نے اس اپنے مضمون میں دس شرطیں لکھی ہیں جو میرے خیال میں ایسے مؤلّف کے لئے ضروری ہیں۔ لیکن میرے خیال کی پیروی کچھ ضروری نہیں ہر ایک صاحب کو چاہئیے کہ اس کام کے لئے پوری پوری غور کر کے یہ رائے ظاہر کریں کہ کس کو یہ خدمت تالیف سپرد کرنی چاہئیے اور ان کے نزدیک کون ہے جو بخوبی اور خوش اسلوبی اس